’یوپی اے کو معمولی برتری‘

بھارت میں ذرائع ابلاغ کےمختلف اداروں کی طرف سے کرائے گئےانتخابی جائزوں کے مطابق لوک سبھا انتخابات میں ترقی پسند محاذ ’یو پی اے‘ اور قومی جمہوری محاذ یعنی ’این ڈی اے‘ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے لیکن ’یو پے اے‘ کو معمولی برتری حاصل ہے۔
سبھی ٹی وی چینلز کے اندازوں کے مطابق بہار، جھارکھنڈ، آسام اور گجرات میں این ڈی اے کی سیٹیں بڑھنے کی امید ہے جبکہ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور کرناٹک میں وہ گزشتہ انتخابات کے نتائج دہراتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔
<link type="page"><caption> انڈیا: انتخابات مکمل، گنتی سولہ مئی کو </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/05/090512_polling_final_day.shtml" platform="highweb"/></link>
دوسری جانب مغربی بنگال کی ترنامول کانگریس اور حکمراں کانگریس کے درمیان اتحاد کی وجہ سے مغربی بنگال میں یو پی اے کو فائدہ ہونے کی امید ہے جبکہ بائیں بازوں کو نقصان ہوسکتا ہے۔ کانگریس پارٹی کو اڑیسہ اور راجستھان میں بھی زیادہ نشستیں ملنے کی امید ہے۔
سب سے زیادہ سیٹوں والے اترپردیش کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہاں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیٹیں بڑھ سکتی ہیں۔ حالانکہ ریاست میں حکمراں بہوجن سماج پارٹی سب سے آگے رہے گی یہاں سماج وادی پارٹی کو نقصان ہوسکتا ہے۔
نیوز چینل ’نیوز ایکس‘ اور ’اسٹار نیوز‘ کے ایکزٹ پول کے مطابق یو پی اے کو دو سو دو سیٹیں ملیں گی، جن میں سے ایک سو ستاون کانگریس کی ہونگی۔ وہیں این ڈی اے کو ایک سو اٹھانوے سیٹیں ملیں گی جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک سو چون سیٹیں ہوسکتی ہیں۔
’ہیڈلائنز ٹوڈے چینل‘ کے مطابق کانگریس اور اس کے اتحاد والی پارٹیوں کو ایک سو اکانوے سیٹیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی پارٹیوں کو ایک سو اسی سیٹیں ملنے کی کوشش ہے۔ اس چینل نے بائیں محاذ کی سیٹیں اس بار ساٹھ سے کم ہو کر اڑتیس رہ جانے کا اندازہ لگایا ہے۔


















