انتخابات میں کالا دھن

ہندوستانی روپیہ
،تصویر کا کیپشنانتخابی کمیشن نے پارلیمانی انتخاب لڑنے کے لیے ہر امیدوار کے لیے 25 لاکھ روپئے خرچ کرنے کی حد مقرر کی ہے ۔
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

ہندوستان کے پارلیمانی انتخابات میں مختلف امیدوار انتخاب جیتنے کے لیے مجموعی طور پر دس ہزار کروڑ روپے سے زیادہ صرف کرتے ہیں جس کا بیشتر حصہ کالے دھن سے آتا ہے ۔ یہ بات دلی کے ایک تحقیقی ادارے سنٹر فار میڈیا سٹڈیز ( سی ایم ایس) کےایک مطالعے میں کہی گئی ہے۔

انتخابی کمیشن نے پارلیمانی انتخاب لڑنے کے لیے ہر امیدوار کے لیے 25 لاکھ روپے خرچ کرنے کی حد مقرر کی ہے ۔اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے اخراجات کے لیے بھی کچھ رقم مقرر ہے ۔

مقررہ اخراجات کےتخمینوں کے مطابق انتخابات میں دو ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ کے اخراجات نہیں آنے چاہیں۔ سنٹر فار میڈیا سٹڈیز کے ڈائرکٹر این بھاسکر راؤ انتخابات کے اپنے مطالعے میں کہتے ہیں کہ حقیقی اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہی ۔’پارلیمانی الیکشن پر دس ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوتا ہے اور اس میں بیشتر پیسہ بلیک منی یعنی کالا دھن ہے۔‘

انتخابات پر نظر رکھنے والے حیدرآباد میں واقع ایک کارکن اجے گاندھی کا خیال ہے کہ حالیہ برسوں میں انتخابات کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ’پارلیمانی الکشن میں چھوٹی سیٹون پر ایک امیدوار کم سے کم ایک کروڑ اور اور بڑی سیٹوں پر تیس کروڑ روپئےتک خرچ کرتے ہیں ۔ اور ہر حلقے میں کم از کم چار مضبوط امیدوار ہوتے ہی ہیں۔‘

انیل بیروال کا کہنا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ انتخابات میں کروڑپتی امیدواروں کی تعداد میں  تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنانیل بیروال کا کہنا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ انتخابات میں کروڑپتی امیدواروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

تقریبآ ایک ہزار غیر سرکاری تنظیموں پر مشتمل ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز انتخابات میں جرائم اور دولت کی آمیزش روکنے کے لیے ایک عرصے سے کوشاں ہے۔

ایسو سی ایشن کے سربراہ انیل بیروال کا کہنا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ انتخابات میں کروڑپتی امیدواروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 7405 امیدواروں میں 1205 امیدوار کروڑ پتی ہیں۔

ایسو سی ایشن کی رپورٹ کے مطابق انتخابات مین حصہ لینے والے کانگریس کے امیدواروں کے اثاثوں کا فی کس اوسط پانچ کروڑروپے ہے ، بی ایس پی کا تین کروڑ اور بی جے پی اور ایس پی کا دو دو کروڑ۔ چھوٹی جماعتوں کے امیدواروں کی بھی یہی صورتحال ہے ۔ ’ایسے ہندوستان مین جہاں ستر فی صد آبادی غربت میں زندگی گزارتی ہو ان لو گوں کے لیے سیاست کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں ۔ اگر آپ کروڑ پتی نہیں تو آپ اس میں شامل نہیں ہو سکتے۔‘

لیکن اگر امیدوار انتخاب جیتنے کے لیے کروڑوں روپئے صرف کر رہے ہیں تو وہ یہ پیسے واپس کیسے حاصل کرتے ہیں۔ سنٹر فار ڈیموکریٹک ریفارمز کے ڈائرکٹر این بھاسکر راؤ کہتے ہیں کہ اس کا ایک منظم طریقہ ہے ۔ ’ہندوستان میں گیارہ ایسی سروسز ہیں جن میں عوام کو ہر برس تیس ہزار کروڑ روپئے رشوت کے طور پر دینے پڑتے ہیں اور اس میں دیگر لو گوں کے علاوہ بدعنوان منتبہ نمائندوں کا بھی حصہ ہو تا ہے۔‘

این جی او کے کارکن اجے گاندھی کا خیال ہے کہ سیاست اب ’بسنس وینچر‘ بن چکی ہے۔ جو لوگ ایمانداری سے کام کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے جگہ سمٹتی جا رہی ہے۔

ہندوستان میں ایک عرصےسے انتخابی طریقہ ء کار میں اصلاحات کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے انتخابات میں ناجائز اخراجات ملک میں ہر طرح کی بد عنوانی کی جڑ ہے۔ بہت سے اراکین اور دانشور اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ انتخابی اخراجات کی ذمے داری امیدواروں کے بجائے اب حکومت کو دے دی جانی چاہیے۔