نتیش کمار کدھر جائیں گے

- مصنف, ایم ایس احمد
- عہدہ, پٹنہ
- وقت اشاعت
پھر وہی سوال، نتیش کمار کس کے ساتھ جائیں گے اور کیا وہ وزیر اعظم بن سکتے ہیں؟ اور اس سوال کا جواب ہے ’جتنے منہ اتنی بات‘۔
جمعہ کو ایک کتاب کے اجراء کے دوران بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے یہ مشورہ دیا کہ مرکز میں بننے والی حکومت کو بہار کی جس پارٹی سے حمایت چاہیے اس کے لیے بنیاد یہ بننا چاہیے کے بہار کو خصوصی درجہ دینے کے لیے کون تیار ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حمایت کی شرط بہار کا خصوصی درجہ ہونا چاہیے۔
نتیش کمار متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ کہیں نہیں جائیں گے اور وہ این ڈی اے کے ساتھ ہی رہیں گے مگر ان کے تازہ بیان نے اس قیاس آرائی کے لیے گنجائش پیدا کر دی ہے کہ کانگریس یا دوسری کسی جماعت یا کسی فرنٹ نے ان کی شرط مان لی تو ان کی حمایت بی جے پی کے علاہ کسی اور کو حاصل ہوگی۔
نتیش کمار گزشتہ چار سال سے بہار میں بی جے پی کی حمایت سے حکومت چلا رہے ہیں اور ان کے لیے کانگریس یا کسی اور کو حمایت دینے کا مطلب فوری طور پر بہار میں اپنی حکومت کو خطرے میں ڈالنا ہے۔اس لیے مقامی سیاسی مبصر نتیش کمار کے لیے اس فیصلے کو بہت مشکل مانتے ہیں۔
نتیش کمار کے بیان سے پھیلی قیاس آرائی کو فوراً بی جے پی کے صدر راج ناتھ اور بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی نے یہ کہتے ہوئےغلط قرار دیا کہ نتیش کمار کو معلوم ہے کہ بہار کو ’سپیشل کیٹیگری سٹیٹس‘ کس حکومت سے ملے گا۔ راج ناتھ سنگھ نے یہ بھی کہا کہ نتیش کمار کہ چکے ہیں ہے وہ این ڈی اے کے ساتھ ہی رہیں گے۔
ادھر سیئنر بی جے پی رہنما سشیل کمار مودی نے کہا کہ نتیش این ڈی کے ساتھ سنہ انیس سو چھیانوے سے ہیں اور اس کے اشتراک سے آٹھ الیکشن لڑ چکے ہیں اور یہ کہ وہ کہیں نہیں جائیں گے۔
نتیش کمار کے اس بیان کے فوراً بعد کانگریس نے ایک بار پھر ان کی طرف توقعات سے بھری نگاہ ڈالنی شروع کر دی ہے۔ سینئر کانگریس رہنما دگ وجۓ سنگھ نے بہار کو مراعات دینے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار اگر یہ بتائیں کہ ’خصوصی درجے‘ سے ان کی کیا مراد ہے، تو بات آگے بڑھے گی۔

نتیش کمار بڑے واضح انداز میں کہہ چکے ہیں کہ وہ ایک چھوٹی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی حیثیت وزیر اعظم بننے کی نہیں ہے۔ حالانکہ انکی پارٹی کے بعض سینئر رہنما یہ کہہ رہے ہیں کہ نتیش کمار نے بہار میں جو کام کیا ہے اسکی وجہ سے وہ ملک کے وزیر اعظم بننے کے اہل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نتیش کمار کی حمایت حاصل کرنے کی اس سعی کے پیچھے یہ توقع ہے کہ اس بار ان کی پارٹی کو بہار سے کافی سیٹیں ملیں گی۔ تقریباً تمام ایگزٹ پول میں ان کی پارٹی کی پوزیشن کافی اچھی بتائی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کانگریس پارٹی کے جنرل سیکریٹری راہل گاندھی نتیش کمار کو ’ایک جیسی سوچ‘ والا فرد بتا چکے ہیں اور انسے حمایت حاصل کرنے کے توقع کا اظہار بھی انہوں نے کیا تھا۔
اسی طرح کمیونسٹ پارٹیاں بھی نتیش کمار کو سیکولر بتا کر انکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر چکی ہیں۔
موجودہ صورت حال میں یہی کہنا بہتر ہوگا کہ سیاست ممکنات کا کھیل ہے اور اسکا رزلٹ اسی طرح غیر یقینی ہے جیسا کرکٹ کے آخری بال کا قصہ ہے۔






















