بھارتی ووٹرز نے اندازے غلط ثابت کردیئے

کانگریس
،تصویر کا کیپشن’انتخابات کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک کے ووٹرز اعتدال پسند ہیں‘
    • مصنف, ساتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
  • وقت اشاعت

مبصرین کا اندازہ تھا کہ انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی کے اتحادوں کے مابین برابر کا مقابلہ رہے گا۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ علاقوں اور ذات پات کی بنیاد پر قائم جماعتیں بھی حکومت سازی میں اہم کردار ادا کریں گی۔

کمیونسٹ جماعتیں بھی یہ کہہ رہی تھیں کہ کانگریس کو بھی ایسی حکومت کی حمایت کرنی پڑے گی۔ اس کے علاوہ بھارت کی روایت بھی کچھ مختلف رہی ہے۔ حکمران جماعت کے گزشتہ تین وزرائے اعظم ایک مدت پوری کرنے کے بعد انتخابات میں شکست سے دوچار ہوچکے ہیں۔

تاہم اس مرتبہ کانگریس نے تمام روایتیں توڑ کر اپنے آپ کو فاتح ثابت کیا ہے۔ ایک سیاسی مبصر مہیش رنگا راجن نے اس فتح کو بھارت کی جمہوریت کے لیے ایک ’تاریخی لمحہ‘ قرار دیا ہے۔ذات پات کی سیاست کرنے والی علاقائی جماعتوں کو بہار اور اتر پردیش میں بھی ناکامی کا سامنا رہا ہے۔ انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد یکایک بھارت کا سیاسی ڈھانچہ اتنا کمزوردکھائی نہیں دے رہا۔

ووٹروں نے کانگریس کی دیہی علاقوں اور کسانوں کے لیے پالیسی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے، دیہی مارکیٹ کی مانگ میں اضافے اور دیگر ایسی ہی اصلاحات سے متاثر ہوکر جماعت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران ملک کی بڑے مذہبی فساد کا نہ ہونا بھی جماعت کے لیے خوش آئند ثابت ہوا ہے۔

دہلی سمیت بھارت کے بڑے شہروں میں کانگریس کا پلڑا بھاری رہا ہے جبکہ اتر پردیش میں بھی کانگریس ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ذات پات کی بنیاد پر انتخابات لڑنے والی جماعتیں پس منظر میں چلی گئی ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مایاوتی کے بارے میں مبصرین کی آراء انتہائی غلط ثابت ہوئیں۔

مبصرین اب کہہ رہے ہیں کہ اتر پردیش میں مایاوتی کی ناکامی سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ ٹیکس میں ادا کی گئی رقوم کو بڑی بڑی تقاریب میں خرچ ہوتا دیکھ کر مایاوتی سے مایوس ہوئے ہیں۔

مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹی کی شکست بھی ایک غیر متوقع نتیجہ ہے۔ کمیونسٹ پارٹی نے اس علاقے میں مسلسل 32 سال تک حکمرانی کی ہے۔ ووٹرز شاید اب اس روایت سے تھک چکے ہیں جبکہ حکومت کے صنعتیں لگانے کے لیے زمین حاصل کرنے کی کوششوں کی مخالفت بھی جماعت کے لیے منفی ثابت ہوئی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی شکست ثابت کرتی ہے کہ جوان ووٹرز بی جے پی کے 81 سالہ رہنما کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک کے ووٹرز اعتدال پسند ہیں۔

دوسری جانب یہ فتح کانگریس کے رہنماؤں کے ارادوں کو مزید مضبوط کردے گی۔ منموہن سنگھ معاشی اصلاحات کی پالیسی پر اطمینان سے آگے بڑھ سکیں گے اور انہیں حکومی چلانے کے لیے کمیونسٹ جمایت کی حمایت پر بھی انحصار نہیں کرنا پرے گا۔جبکہ پر امن مقاصد کے لیے کیا گیا جوہری معاہدہ بھی متاثر نہیں ہوگا جس پر کمیونسٹ جماعت کڑی تنقید کرتی رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ان سب باتوں کی بنیاد پر منموہن سنگھ کی سیاسی ساکھ مزید بہتر ہوگی۔