لالو کا’ کنٹریکٹ‘ ختم

- مصنف, ایم ایس احمد
- عہدہ, پٹنہ
- وقت اشاعت
لالو پرساد جب بہار کے راجہ کہلانا پسند کرتے تھے تو ان کی ایک بات مشہور ہوئی تھی کہ عوام کے ساتھ ان کا ’بیس سال کا کانٹریکٹ‘ ہے اور اس کانٹریکٹ کے ہوتے ہوئے وہ اقتدار سے بے دخل نہیں ہو سکتے۔
لالو کا یہ کانٹریکٹ چار سال پہلے اس وقت ٹوٹ گیا جب ریاست میں انہیں اکثریت نہیں مل سکی۔ اس وقت پہلے صدر راج نافذ ہوا اور بعد میں نتیش کمار نے اپنے حلیف کے ساتھ اکثریت حاصل کر لی۔
اس کے باوجود بہار اور جھارکھنڈ میں اپنے چوبیس ارکان پارلیمان کی بدولت لالو پرساد ملک کی سیاست کے اہم کردار بنے رہے۔
بطور ریلوے وزیر انہوں نے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی، وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور دنیا بھر کے مینیجمنٹ اداروں سے خوب پذیرائی حاصل کی۔ انہوں نے ریلوے کو خسارے سے نکال نوے ہزار کروڑ روپے نفع دلوانے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
مگر ڈھائی ماہ پہلے جب لوک سبھا انتخابات کا اعلان ہوا تو انہوں نے اپنے حریف لوک جن شکتی پارٹی کے رام ولاس کے پاسوان کے ساتھ سیٹوں کا جو سمجھوتہ کیا، اس کے مطابق کانگریس کے لیے ریاست میں صرف تین سیٹیں چھوڑیں جن میں کانگریس کی جیتی سیٹیں تھیں۔ اس سے ناخوش ہوکر کانگریس نے بہار میں اکیلے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔
لالو پرساد اپنے روایتی ووٹ اور رام ولاس پاسوان کے دلت ووٹوں کے اشتراک سے فتح حاصل کرنے کی امید کررہے تھے۔ مگر ووٹوں کے بکھراؤ، کانگریس کی طرف مسلمانوں کے بڑھتے رجحان اور سب سے بڑی بات نتیش کمار کے ترقی کے نعرے کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور سنیچر کو پارلیمان کے انتخاباتکے نتائج آنے کے ساتھ ہی ان کے لیے دلی بھی دور ہو گئی۔
لالو پرساد دلی کی سیاست میں اس سے پہلے بھی کافی کم سیٹیں جیتنے کے باعث کوئی خاص کردار ادا نہیں کرسکے مگر چالیس سیٹوں میں سے انہیں صرف چار سیٹیں حاصل ہوں گی، اس کا اندازہ تو شاید بہت کم لوگوں نے لگایا تھا۔
رکن پارلیمان کے ساتھ لالو کی پارٹی کے ایک وزیر رگھونش پرساد سنگھ کے علاوہ تمام وزراء بھی الیکشن ہار گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شوانند تواری کہتے ہیں کہ لالو پرساد کا باب اب بند ہوگیا ہے۔
دوسری جانب لالو پرساد نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ شکست کی وجوہات معلوم کریں گے اور جنتا کی خدمت میں لگے رہیں گے۔ لالو نے اقرار کیا کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد نہ کرنا ان کی غلطی تھی۔
دوسری جانب رام ولاس پاسوان خود بھی ہار گئے اور ان کی پارٹی کا پلڑا بھی خالی ہوگیا۔ ایک وقت پر پہلے متوقع دلت وزیر اعظم کے طور پر دیکھے جانے والے پاسوان کو لگتا ہے کہ حاجی پور میں اگر ترقی کے نام پر ووٹ ملتا تو انہیں ہارنا نہیں چاہئے تھا کیونکہ وہاں انہوں نے وہاں بشمول ہوٹل مینیجمنٹ انسٹی ٹیوٹ اور سٹیل پروسسنگ یونٹ کے کئی ادارے قائم کروائے۔
رام ولاس پاسوان کا کہنا ہے کہ ان کے حریف کی جیت کی وجہ نتیش کمار کا نہایت پسماندہ ذاتوں کا کارڈ رہی اور انہیں اس بات کا بھی احساس ہے کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کا ووٹ صحیح طور پر انہیں نہیں مل سکا۔
لالو پرساد اور رام ولاس پاسوان غریب اور کمزور طبقے کو ان کے حقوق کا احساس دلانے والے رہمنا کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں۔ اب ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا ہے ۔ آئندہ سال کے اسمبلی الکشن میں ان کے لیے ایک موقع آئے گا۔ اس وقت انہیں یہ فیصلہ کرنے میں دقت نہیں ہونی چاہیے کہ ووٹ صرف سیاسی جوڑ توڑ سے نہیں بلکہ عوام کے درمیان کام کرنے والے رہنما کی ساکھ کے ساتھ حاصل ہوتا ہے۔
لالو اور پاسوان کے تذکرے کے ساتھ کانگریس پارٹی کا ذکر بھی ضروری ہے۔ بہار میں اکیلے انتخاب لڑنے کا فیصلہ نتائج کی روشنی میں خسارے کا سودہ ہی رہا۔ ایک طرف اس کا فائدہ جے ڈی یو اور بی جے پی کو ہوا۔ کانگریس کے ایک اہم مسلم رہنما اور مرکز میں وزیر ڈاکٹر شکیل احمد مدھوبنی سے الیکشن نہ صرف ہار گئے بلکہ انہیں تیسری پوزیشن حاصل ہوئی۔ یہاں سے آر جے ڈی کے عبد الباری صدیقی دوسرے مقام پر رہے۔
بیشتر جگہوں پر کانگریس نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور ان کے امیدواروں کو اوسطاً اتنے ووٹ ملے جتنے ووٹوں سے جے ڈی یو اور بی جے پی کے امیدواروں نے فتح حاصل کی۔






















