ڈی ایم کے: حکومت میں شمولیت انکار

ہندوستان میں کانگریس پارٹی کی اتحادی جماعت ڈی ایم کے نے حکومت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کانگریس کی قیادت والی حکومت کو باہر سے حمایت دے گی۔
جنوبی ریاست تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کرونا ندھی کی پارٹی ڈی ایم کے کانگریس کی اتحاد والے یونائٹڈ پروگریسو الائنس یو پی اے کا اہم حصہ ہے اور اطلاعات کے مطابق پارٹی نے حکومت میں شامل نا ہونے کا فیصلہ وزارتوں کی تقسیم پر اختلافات کے بعد کیا ہے۔
وزارتوں کی تقسیم کے حوالے سے ڈی ایم کے کے صدر ایم کرونا ندھی اور کانگریس کے رہنماؤں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ اس کے بعد ڈی ایم کے رہنما اور سابق ٹرانسپورٹ اور جہاز رانی کے وزیر ٹی آر بالو نے کہا کہ ’مجھے ہمارے رہنما نے یہ اطلاع دینے کے لیے کہا کہ ڈی ایم کے حکومت کی باہر سے حمایت کرے گی‘۔
ٹی آر بالو سے جب اس طرح کے سوالات کیےگئے کہ آخر وزارتوں کی تقسیم پر ان کا کیا موقف تھا اور آخر یہ نوبت کیسے پہنچی کہ وہ حکومت میں ہی شامل نہیں ہوں گے تو انہوں نے جواب دینے سےگریز کیا اور کہا کہ ان کی پارٹی کی طرف سے اس بارے میں کوئی سودے بازی نہیں ہوئی۔
کانگریس پارٹی کے ترجمان جناردھن دویدی نے کہا کہ گزشتہ حکومت میں ڈی ایم کے کے پاس جو وزارتیں تھیں وہ انہیں دی جارہی تھیں لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے۔ ’وہ پہلے سے زیادہ وزارتیں مانگ رہے تھے اس لیے انہوں نے باہر سے حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بات چیت ختم ہوگئی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت جاری رہے گی اور اسے حل کر لیا جائےگا۔
انتخابات کے دوران یو پی اے میں شامل کئی جماعتیں کانگریس پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر چلی گئی تھیں لیکن ڈی ایم کے نے کانگریس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا اور اس کے ساتھ مل کر انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ اس بار ڈی ایم کے نے اٹھارہ سیٹیں جیتی ہیں اور وہ یو پی اے کا اہم حصہ ہے۔
وزارتوں کے سلسلے میں بات چیت کے لیے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ایم کرونا ندھی خود دلی آئے تھے اور اب انہوں نے چنئی واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس سلسلے میں پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ ہوگی جس کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائےگا۔
ادھر کانگریس پارٹی نے امید ظاہر کی ہے کہ اس معاملے کو بات جیت کے بعد حل کر لیا جائیگا۔ امکان ہے کہ اس بارے میں ڈاکٹر منموہن سنگھ یا سونیا گاندھی خود مداخلت کریں گے تاکہ معاملہ سلجھ جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ بائیس مئی یعنی جمعہ کی شام کو نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب طے ہے اور کانگریس پارٹی چاہتی ہے کہ اس سے پہلے وزارتوں کی تقسیم کے مسئلے کو حل کرلیا جائے۔






















