کشمیر کا ’کنفیوژن‘

کشمیریوں کی نئی نسل آزادی کے نعروں ، ہڑتالوں گولیوں کی آوازوں  اور کرفیو کے درمیان پروان چڑھی ہے
،تصویر کا کیپشنکشمیریوں کی نئی نسل آزادی کے نعروں ، ہڑتالوں گولیوں کی آوازوں اور کرفیو کے درمیان پروان چڑھی ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

گزشتہ اٹھارہ برس سے اکیس مئی کو سری نگر میں ہر برس عید گاہ میدان میں ہزاروں افراد ایک بڑی ریلی میں شامل ہوتے رہے ہیں ۔ اس دن وادی کے عوام ہڑتال کیا کرتے ہیں۔

یہ ریلی اورہڑتال میر واعظ مولانا محمد فاروق کی ہلاکت کے احتجاج میں کی جاتی رہی ہے ۔ اس برس بھی حریت کے رہنما میر واعظ مولوی عمر فاروق نے اپنے حامیوں کی ریلی بلائی اور ہمیشہ کی طرح ہڑتال کی اپیل کی۔ اب یہ ریلی محض ایک سالانہ رسم بن کر رہ گئی ہے۔

ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ہیں جب امر ناتھ شرائن بورڈ کو زمیں الاٹ کیے جانے کے خلاف احتجاج میں لاکھوں لو گ سڑکوں پر آئے تھے ۔ لیکن اس کے چند ماہ بعد ہی اتنی ہی بڑی تعداد میں لو گوں نے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا ۔ پارلیمانی انتخابات بھی خوش اسلوبی سے انجام پائے ۔

کشمیر میں علیحدگی پسندی کی تحریک نے 1989 سے اب تک ایک طویل مسافت طے کی ہے۔ یہ تحریک اپنے عروج پر اس وقت پہنچی جب اس پر شدت پسندی کا غلبہ ہوا۔ لیکن بہت سی دیگر مسلح جد وجہد کی طرح یہاں بھی شدت پسند قیادت نے یہ سمجھنے کی غلطی کی کہ کشمیر کا حل صرف مسلح جد و جہد سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ یہی غلطی سری لنکا میں ایل ٹی ٹی ای کے سربراہ پربھاکرن نے کی تھی ۔

سری لنکا میں تملوں کی تحریک بقول ان کے سنہالہ ظلم و جبر اور تفریق کے خلاف شروع ہوئی تھی ۔ رفتہ رفتہ یہ ایک عوامی تحریک بن گئی ۔ پربھاکرن نے 1983 میں ایل ٹی ٹی ای قائم کر کے اسے ایک مسلح جد وجہد کی شکل دی۔ چند ہی برس میں سری لنکا کے تمل غلبے والے شمالی اور شمال مشرقی صوبے ایل ٹی ٹی اے کے قبضے میں آگئے ۔

ایل ٹی ٹی ای جب اپنے عروج پر تھی اس وقت ناروے کی ثالثی میں سری لنکا کی حکومت سے بات چیت شروع ہوئی ۔ جنگ بندی کا آغاز ہوا لیکن ایشیا کی سب سے طویل اور کامیاب چھاپہ مار جنگ کی قیادت کرنے والے پربھاکرن نے یہی سمجھا کہ تملوں کے مسلے کا حل مسلح جد و جہد ہے ۔ اور یہی پربھاکرن کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ انہوں نے مزاکرات ختم کر دیے۔

پربھاکرن کی ہلاکت کے بعد آج لاکھوں تملوں کا مستقبل بے یقینی کی گرفت میں ہے ۔ ایک خیال یہ ہے کہ جس منزل پر آج وہ ہیں وہ پچیس برس کی خانہ جنگی اور ہزاروں افراد کی ہلاکت کے بغیر محض سیاسی مذاکرات سے حاصل کی جا سکتی تھی ۔ اور ایک بہت بڑا حلقہ اب یہ سمجھتا ہے کہ پربھاکرن نےپچیس برس تک ایک ایسی جنگ کی قیادت کی جس کا انجام خود تباہی اور خود کشی کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ اب آئیے کشمیر کا رخ کریں۔ کشمیر کی تحریک بھی ایک عوامی تحریک تھی جس کی قیادت مسلح عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں تھی ۔حقوق کے حصول کی سیاست کا یہ ایک مسئلہ اصول ہے کہ کوئی بھی مسلح تحریک تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب وہ سیاسی حل کے لیے راہ ہموار کرتی ہو اور سیاسی حل میں یقین رکھتی ہو۔

ہندوستانی قیادت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ سیاسی حل کا راستہ کھلا نہ رکھ کر کشمیر کی عسکری قیادت نے بھی وہی غلطی کی جو سری لنکا میں پربھاکرن نے کی ہے۔ دلی میں یہ رائے عام ہے کہ گزشتہ پچیس برسں میں کشمیری علیحدگی پسند تحریک کی قیادت کی جانب سے نعروں کے علاوہ کوئی بھی متبادل سیاسی حل سامنے نہیں آیا ۔اور مذاکرات کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

کشمیر کی علیحدگی پسند تحریک کے دوران شاید اتنے ہی لو گ مارے گئے جتنے سری لنکا میں ایل ٹی ٹی ای کی شدت پسند تحریک کے دوران ہلاک ہوئے ۔ ہزاروں لوگوں کی ہلاکت اور دو نسلوں کی تباہی کے بعد کشمیر آج وہیں کھڑا ہے جہاں وہ آج سے بیس برس پہلے تھا۔ سوال یہ ہے کہ کشمیریوں کو جو کچھ آج حاصل ہے یا جو حاصل ہونے والا ہے کیا وہ باآسانی سیاسی مزاکرات سے حاصل کیے جا سکتے تھے؟

گزشتہ دو برس سےیاسین ملک سے لے کر سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ مولوی عمر فاروق تک سبھی یہ کہتے رہے ہیں کہ عسکریت کا اپنا کردار تھا جو اس نے ادا کیا۔لیکن کیا وہ سیاسی حل کے کسی منطقی انجام تک پہنچا سکی ؟ ۔کیا ابھی تک بات اس سے آگے بڑھی؟

کشمیریوں کی نئی نسل آزادی کے نعروں، ہڑتالوں، گولیوں کی آوازوں اور کرفیو کے درمیان پروان چڑھی ہے ۔ اس مرحلے پر وہ ایک ایسی منزل پر ہے جہاں اسے ابہام کی نہیں ایک واضح سمت کی ضرورت ہے ۔ بدلتی ہوئی دنیا کے تناظر میں اسے اپنا سیاسی مستقبل خود طے ہونا کرنا ہوگا اور زمینی حقائق کی روشنی میں اپنی واضح شناخت وضع کرنی ہو گی ۔ انہیں مزید کسی پربھاکرن کی نہیں سیاسی حل کی ضرورت ہے ۔