شیو سینا: چچا بھتیجے میں اختلافات شدید

راج ٹھاکرے
،تصویر کا کیپشنمہاراشٹر کا وزیراعلیٰ ان کی مرضی کے بغیر نہیں بن سکتا
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

مہاراشٹر میں بال ٹھاکرے کی شیوسینا اور انہی کی پارٹی سے علیحدہ ہونے والے ان کے بھتیجے راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا میں مراٹھی ووٹوں کی تقسیم پر اختلافات اور الزامات شدید ہو گئے۔ حالیہ پارلیمانی الیکشن میں شیوسینا بھارتیہ جنتا پارٹی اتحاد کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ممبئی کی تمام چھ نشستوں پر کانگریس این سی پی اتحاد نے قبضہ کر لیا۔

ممبئی اور تھانے کی دس سیٹوں میں سے صرف ایک سیٹ شیوسینا کے ہاتھ لگی۔ تھانے کا حلقہ جو شیوسینا کا زبردست قلعہ سمجھا جاتا تھا۔ اس میں بھی راج ٹھاکرے کی منسے نے نقب لگا دی۔ جنوبی ممبئی کی سیٹ پر کانگریس کے ملند دیورا کے سامنے شیوسینا کے سینئر لیڈر موہن راؤلے تھے لیکن انہیں منسے کے بالا ناندگاؤنکر کی وجہ سے شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ بالا دوسرے نمبر پر رہے۔اسی طرح ممبئی کی دو سیٹوں پر بی جے پی کے دو سینئر لیڈر رام نائیک اور کرٹ سومیہ کو زبردست شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ان دونوں نشستوں پر منسے کے امیدوار مراٹھی ووٹوں کی تقسیم کا سبب بنے۔ بی جے پی نے اب براہ راست شیوسینا کو اپنی شکست کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

شکست سے بوکھلائے بیاسی سالہ شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے نے اپنے بھتیجے کو غدار قرار دیا ہے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ منسے نے کانگریس کے ایجنٹ کا کام کیا۔دونوں پارٹیوں کے درمیان اب اسی طرح کی بیان بازیوں کا دور جاری ہے۔

مہاراشٹر کی یہ دونوں علاقائی سیاسی جماعتیں مراٹھی ووٹ کی سیاست کرتی آئی ہیں۔گزشتہ کچھ عرصہ سے راج ٹھاکرے نے مراٹھی لوگوں کے مفاد میں پرتشدد سیاست کو اپنایا تھا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے مراٹھی ووٹروں کی بڑی تعداد نے شیوسینا کے بجائے منسے کو اپنا ہمدرد سمجھا اور اسی کو ووٹ دیے۔

حالیہ پارلیمانی الیکشن میں منسے نے اڑتالیس حلقوں میں اپنے صرف بارہ امیدوار کھڑے کیے۔ حالانکہ ان کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوا لیکن بیشتر حلقوں میں وہ دوسرے یا تیسرے نمبر پر رہے ۔مراٹھی ووٹوں کی بڑے پیمانے پر تقسیم کا سبب بھی بنے۔ منسے نے اکیس فیصد ووٹ حاصل کر لیے جبکہ شیوسینا اور بی جے پی اتحاد اس الیکشن میں انتیس فیصد ووٹ حاصل کرسکی۔

مہاراشٹر میں اب اسمبلی الیکشن قریب ہیں۔ شیوسینا اور بی جے پی کو کانگریس سے زیادہ منسے سے خطرہ ہے۔ راج نے پارٹی ورکروں کی میٹنگ کے دوران بہ بانگِ دہل کہہ دیا کہ مہاراشٹر کا وزیراعلیٰ ان کی مرضی کے بغیر نہیں بن سکتا۔ راج کو یقین ہے کہ اسمبلی الیکشن میں ان کے بہت سے امیدوار کامیاب ہوں گے اور وہ حکومت سازی میں اہم رول ادا کریں گے۔

شیوسینا کے ایک اعلیٰ لیڈر کا دعویٰ ہے کہ منسے کانگریس کی ایجنٹ ہے اور کانگریس ریاست میں شیوسینا کا زور کم کرنے کے لیے منسے کو بڑھاوا دے رہی تھی اسی لیے تو کانگریس حکومت نے شمالی ہند کے باشندوں کے خلاف منسے کی پرتشدد کارروائی پر راج کے خلاف کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا اور اسے ڈھیل دی تھی۔

علاقائی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار کمار کہتے ہیں کہ جس طرح پارلیمانی الیکشن میں منسے کی کارکردگی نے سب کو چونکا دیا تھا اسی طرح اسمبلی الیکشن کے نتائج بہت ہی چونکانے والے ہوں گے۔

کیتکر کا کہنا ہے کہ مراٹھی لوگوں نے دراصل ادھو کو اپنا لیڈر تسلیم ہی نہیں کیا۔ وہ شعلہ بیان لیڈر بال ٹھاکرے کو اپنا رہنما مانتے تھے اور اب انہوں نے راج کو اپنا لیڈر تسلیم کیا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ ان کے حقوق کی لڑائی لڑ سکتے ہیں۔