ہندوستانی فضائیہ میں اسرائیلی فیلکن

رڈار
،تصویر کا کیپشنیہ آگرہ کے فضائی بیڑے کا حصہ رہے گا
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

اسرائیل کا بنا ہوا پیشگی حملے کی وارننگ دینے والا پہلا جدید ترین فیلکن ریڈار ہندوستان پہنچ رہا ہے ۔ روسی ساخت کے ایک طیارے پر نصب یہ ریڈار پیر کو اسرائیل سے گجرات کے فضائی اڈے جام نگر پہنچے گا اور وہاں سے اسے منگل کودلی لایا جائےگا۔ اسے با ضابطہ طور پر ہفتے کے روز فضائیہ میں شامل کیا جائے گا اور یہ آگرہ کے فضائی بیڑے کا حصہ رہے گا۔

پیشگی فضائی وارننگ نظام کے ساتھ ہندوستان جنوبی ایشیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس کے پاس اس نوعیت کا ریڈار ہے۔

اسرائیل ایر کرافٹ انڈسٹریز کا تیار کردہ فیلکن ریڈار روسی ساخت کے آئی ایل - 76 جنگی طیارے پر نصب ہے۔ یہ ریڈار 2004 میں اسرائیل کے ساتھ ایک ارب دس کروڑ ڈالر کے ایک معاہدے کے تحت ہندوستان کو حاصل ہوا ہے ۔ دو مزید فیلکن 2010 تک ہندوستان کو ملنے ہیں۔

فیلکن زمین اور فضا میں فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے۔ یہ 400 کلو میٹر کی دوری سے دشمن کی طرف سے آتے ہو ئے جنگی جہاز یا مزائل کا پتا لگا لیتا ہے۔ یہ ہر موسم میں کام کرتا ہے اور ہر نوعیت کے طیاروں کی شناخت کر لیتا ہے۔ یہ ایک ساتھ ساٹھ نشانوں پر نظر رکھ سکتا ہے ۔ پیشگی وارنننگ کے کے ضمن میں اسے دنیا کے جدید ترین دفاعی نظام میں شامل کیا جاتا ہے۔

اس میں امریکہ کی ٹکنولوجی بھی استعمال ہوئی ہے اس لیے ہندوستان کے ہاتھوں فیلکن کی فروخت سے پہلے اسرائیل نے امریکہ سے اجازت حاصل کی تھی۔

ہندوستانی فضائیہ کے ایک سینیئر اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فیلکن اتنا موثر ہے کہ یہ اگر سری نگر کی فضا میں پرواز پر ہو تو یہ افغانستان میں جلال آباد تک کی فضا اور زمین پر ہونی والی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکے گا ۔اہلکار کا کہنا تھا '' جیسے ہی کو ئی طیارہ پرواز شروع کرتا ہےہمیں معلوم ہو جائے گا ۔ فیلکن کے دائرے میں آنے والی ہر صورتحال ہماری نظروں کے سامنے ہو گی۔''

اطلاعات ہیں کہ ہندوستان ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کے مزید تین فیلکن دفاعی نظام خریدنے کے لیے اسرائیل سے بات چیت کر رہا ہے۔

گزشتہ کئی برس سے ہندوستان نے ہر برس اوسط // کم از کم ایک ارب ڈالر مالیت کے دفاعی ساز و ساسامان اسرائیل سے خریدے ہیں۔ ان میں ہتھیاروں اور گولہ و بارود کے علاوہ ہنودستانی بحریہ کے لیے مزائل اور گرین پائن ریڈار پرمبنی طیارہ شکن اور مزائل شکن نظام بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کی ملٹری انڈسٹری نے اعلان کیا ہے کہ وہ 24 کروڑ ڈالر مالیت سے ہندوستان میں توپ کے گولے بنانے کے لیے پانچ فیکٹریاں قائم کرے گی۔ دونوں ممالک خلائی تحقیق و ترقی میں بھی اشتراک کر رہے ہیں۔

ہندوستان نے 2008 میں جنوبی ہندوستان میں واقع سری ہری کوٹہ کے خلائی مرکز سے اسرائیل کا ایک جاسوس سیارہ خلا میں چھوڑا تھا ۔ ہندوستان نے بھی حال میں اسرائیل کا بنا ہوا ایک جاسوسی سیارہ خلا میں بھیجا ہے۔