ایک گروپ ایک گول

رحمانی عمارت
،تصویر کا کیپشنرحمانی تھرٹی میں طلبہ اسی عمارت میں رہتے اور پڑھتے تھے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

معیاری تعلیم کے لیے دنیا بھر میں مشہور انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی میں داخلہ کا خواب بھی ہر طالب علم نہیں دیکھتا۔ لیکن پٹنہ کی ایک بوسیدہ سی حویلی کو نو مہینوں کےلیے اپنا گھر بنا لینے والے سبھی دس مسلمان طالب علم اس سال آئی آئی ٹی میں داخلے کا امحتان پاس کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

یہ دس نوجوان 'رحمانی تھرٹی' کے نام سے چلائے جانے والےایک فلاحی انسٹی ٹیوٹ میں کوچنگ حاصل کررہے تھے۔

رحمانی تھرٹی سے وابستہ مجاذ ہدا بتاتے ہیں کہ کوچنگ کے لیے ان باصلاحیت نوجوانوں کا انتخاب آئی آئی ٹی کی طرز کے ایک ٹیسٹ کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

' ہم نے سولہ بچوں کا انتخاب کیا تھا، لیکن چونکہ انہیں رہنا بھی یہیں تھا اور پڑھنا بھی یہیں، اس لیے چھ طالب علم ذاتی مسائل کی وجہ سے یا تو آ نہیں پائے یا کوچنگ بیچ میں ہی چھوڑ کر چلے گئے۔'

ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنے والے شادمان انور کہتے ہیں کہ ساتھ رہنے اور ساتھ پڑھنے سے انہیں بہت فائدہ ہوا۔' یہاں اچھے طالب علموں کا ایک گروپ ملا جن کے ساتھ آپ ہروقت رہتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔'

ان کے ساتھی شہزاد حیدر کہتے ہیں کہ ' بچپن سے ہی ہمیں ایک ہی چیز سکھائی گئی تھی، پڑھوگے تو آگے بڑھوگے۔ آٹھوی نویں تک آتے آتے ہم نے اپنا ذہن بنا لیا تھا کہ انجینیرئنگ ہی کرنی ہے۔۔۔اور رحمانی تھرٹی میں ہمیں اپنے خوابووں کو حقیقت میں بدلنے کا موقع ملا۔'

کامیابی حاصل کرنے والے زیادہ تر طلباء کا تعلق متوسط یا غریب طبقے سے ہے
،تصویر کا کیپشنکامیابی حاصل کرنے والے زیادہ تر طلباء کا تعلق متوسط یا غریب طبقے سے ہے

مجاذ ہدا کہتے ہیں کہ 'کامیابی حاصل کرنے والے زیادہ تر طلباء کا تعلق متوسط یا غریب طبقے سے ہے لیکن داخلے صرف میرٹ یا صلاحیت کی بنیاد پر کیے گئے تھے۔ اس کے پیچپے سوچ یہ ہے کہ ایک گروپ ہو اور ایک گول، تو کامیابی آسان ہوجاتی ہے۔ یہاں رہنا پڑھنا سب کے لیے مفت ہے۔'

رحمان تھرٹی ایک فلاحی ادارہ ہے جس سے بہار ملٹری پولیس کے ایک اعلی افسر ابھیانند وابستہ ہیں جو بچوں کو فزکس پڑھاتے ہیں۔ تعلیم کی ذمہ داری وہ سنبھالتے اور دیگر ضروریات کا انتظام رحمانی فاؤنڈیشن کی ذمہ داری ہے۔

رحمانی تھرٹی در اصل سوپر تھرٹی نام کے ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کی طرز پر قائم کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ ابھیانند نے اپنے ایک دوست آنند کمار کے ساتھ ملکر سن دو ہزار تین میں شروع کیا تھا۔ آنند کمار میتھس کے استاد ہیں۔

پہلے ہی سال میں ان سے کوچنگ حاصل کرنے والے سبھی تیس طالب علم آئی آئی ٹی کے لی سلیکٹ ہوئے تھے اور تب سے ہی ان دو غیرمعمولی استادوں کی بدولت آئی آئی ٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والے طلباء کی غیر معمولی کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے۔