پندرہویں لوک سبھا کا اجلاس شروع

ہندوستان کی پندرہویں لوک سبھا کے ارکان کی حلف برداری ہورہی ہے جس کے ساتھ ہی ایوان کا پہلا اجلاس بھی شروع ہوگیا ہے۔ ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے عارضی سپیکر مانک راؤ گاؤت نے نئے ارکان کو حلف دلایا۔
سب سے پہلے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کو حلف دلایا گیا جو لوک سبھا میں حکمراں محاذ کے قائد ہیں۔ ان کے بعد حزب اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی کی حلف برداری ہوئی اور تیسرے نمبر پر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے حلف اٹھایا۔
وزیراعظم منموہن سنگھ نے پندرہویں لوک سبھا کے پہلے اجلاس کو ایک '' نئی ابتداء'' سے تعبیر کیا۔ان کا کہنا تھا '' میں پرخلوص طور پر امید کرتا ہوں کہ یہ ایک نئی شروعات ہوگی اور پارلیمان کی کارروائی میں خلل نہیں پڑےگا۔ کارروائی میں مذاکرات، بحث اور وجوہات کی جیت ہوگی اور ہم اپوزیشن کو بھی ان کے فرائض کی ادائیگی کے لیے پوری عزت بخشیں گے۔''
پارلیمان میں حلف برداری کی ذمہ داری کے لیے صدر پرتیبھا پاٹل نے ایوان کے ایک بہت سینیئر رکن مانک راؤ کو پروٹیم اسپیکر کے طور پر حلف دلایا تھا۔ مانک راؤ نو بار لوک سبھا کے لیے منتخب ہو چکے ہیں۔ وہ تین جون کو نئے سپیکر کے انتخاب تک ایوان کی ذمہ داریاں سنبھلیں گے۔
نئے ارکان کی حلف برداری کے بعد بدھ کے روز نئے سپیکر کا انتخاب ہونا ہے جس کے لیے کانگریس کی رہنما میرا کمار کا نام سب سے آگے ہے۔ اطلاعات کے مطابق کانگریس پارٹی میں ان کے نام پر اتفاق ہوگیا ہے۔ اگر وہ اس عہدے کے لیے منتخب ہوتی ہیں تو بھارتی لوک سبھا کی وہ پہلی خاتون اسپیکر ہوں گی۔
روایت کے مطابق نائب اسپیکر کا عہدہ عام طور پر اپوزیشن جماعت کو دیا جاتا ہے اور کانگریس پارٹی نے اس بارے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو بتا دیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ بی جے پی نے اس کے لیے اپنے کس رہنما کا انتخاب کیا ہے۔
پندرہویں لوک سبھا کے پہلے اجلاس میں کل سات نشستیں ہوں گی۔ چار جون کو صدر پرتیبھا پاٹل پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گی۔ پارلیمان کا پہلا اجلاس نو جون کو ہی ختم ہو جائیگا جبکہ بحٹ کے لیے جون کے آخر میں نیا اجلاس شروع ہوگا۔


















