حافظ سعید کی رہائی پر بھارت کی ناراضگي

بھارت نے جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی رہائی پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کی تفتیش کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
بھارت کا کہنا ہے کہ جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے کئی دہشتگرد تنظیموں سے روابط ہیں اور بھارت کے خلاف انہوں نے نا صرف منصوبے بنائے بلکہ حملے بھی کر وائے ہیں اس لیے ان کی رہائی سے اسے مایوسی ہوئی ہے۔
بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے۔ ’اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی سنجیدگی اب بھی شک کے دائرے میں ہے۔‘
وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بھی حافظ سعید کی رہائی پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور کہا ’ہم اس بات سے نالاں ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ممبئی حملوں کے مجرموں کو سزا دلانے کے لیے پاکستان کو جس طرح کی سنجیدگی دکھانی چاہیے تھی وہ نہیں ہے۔‘
اس سے پہلے وزارت خارجہ کے ترجمان وشنو پرکاش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ان کی رہائی سے پاکستان کی اس بات پر شبہہ ہوتا ہے جس میں اس نے اپنی سرزمین پر دہشتگرد ی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔‘
مسٹر پرکاش نے کہا کہ حافظ سعید لشکرطیبہ اور جماعت الدعوہ کے سربراہ ہیں اور ان تنظیموں کو اقوام متحدہ نے بھی القاعدہ اور طالبان سے روابط رکھنے کے سبب اپنی لسٹ میں شامل کر رکھا ہے۔’ان تنظیموں سے روابط کے سبب حافظ سعید کے نام کا تو خاص طور پر ذکر ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ ان کے اس پس منظر کو اور پاکستان پر جو عالمی برادری کے فرائض تھے ان کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں رہا کر دیا گيا۔‘
وزارت خارجہ کے دفتر نے حافظ سعید کی رہائی کی خبر پر باقاعدہ ایک بیان جاری کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے وشنو پرکاش نے مزید کہا کہ پاکستان کے ان اقدامات سے سوال اٹھتے ہیں کہ وہ ممبئی حملوں کی سازش اور اس کی منصوبہ بندی کی تفتیش کے متعلق سنجیدہ ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ممبئی حملے کی سازش کے تفتیش کا وعدہ کیا تھا لیکن اس بارے میں اس نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
بھارت میں صبح سے اسی خبر کے تذکرے ہیں اور تجزیہ کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان حالت بہتر ہونے میں اور دیر لگ سکتی ہے۔ امکان تھا کہ بھارت کی نئی حکومت امن مذاکرات دوبارہ شروع کر ے لیکن تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ اس میں اب مزید تاخیر ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















