کشمیر: زندگی بدستور معطل

سے بدھوار کو پانچویں روز بھی ہڑتال اور سیکورٹی پابندیوں کی وجہ سے عام زندگی معطل رہی
،تصویر کا کیپشنسے بدھوار کو پانچویں روز بھی ہڑتال اور سیکورٹی پابندیوں کی وجہ سے عام زندگی معطل رہی
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں دو خواتین کی عصمت ریزی اور قتل کا معالہ طول پکڑ رہا ہے۔ اس حوالے سے بدھ کو پانچویں روز بھی ہڑتال اور سیکورٹی پابندیوں کی وجہ سے عام زندگی معطل رہی۔ جبکہ پتھربازی اور پولیس کاروائیوں کے نتیجہ میں سینکڑوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ سرینگر سے ساٹھ کلومیٹر دوُر شوپیان ضلع میں گزشتہ جمعہ کو رونما ہوا تھا۔ اس سلسلے میں حکومت نےعدالتی تحقیقات کا حکم دے کر یک نفری تفتیشی کمیشن بھی قائم کیا ہے۔

وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ ریٹائرڑ جسٹس مظفر جان کی نگرانی میں یہ کمیشن ایک ماہ کے اندر اندر تفتیش مکمل کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کرے گا۔

لیکن علیٰحدگی پسندوں کے ساتھ ساتھ ہندنواز تنظیم پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اس کمیشن کو مسترد کردیا ہے۔ علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق نے اس واقعہ عالمی اداروں کے ذریعہ تفتیش اور جموں کشمیر سے فوجی انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے منگل کی صبح اپنے تیرہ ممبران اسمبلی کے ہمراہ لالچوک میں دھرنا دیا اور فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

بعد ازاں انہیں پولیس گرفتار کرکے لے گئی تاہم پولیس کے سربرای ڈاکڑ اشوک بھان نے بتایا کہ انہیں احتیاطی حراست میں لیا گیا ۔

محبوبہ مفتی نے بدھوار کو 'شوپیان چلو' کی کال دی تھی، تاہم پولیس نے انہیں اور ان کے کارکنوں کو سرینگر کے پارٹی ہیڈکوارٹر میں ہی محدود کردیا۔

دریں اثنا علیٰحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی اور میرواعظ اور پاکستانی زیرانتطام کشمیر میں مقیم مسلح گروپوں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے چئیرمین سید صلاح الدین نے ہندنواز لیڈروں سے کہا ہے کہ ' اگر یہ لوگ کشمیریوں کو درپیش مصائیب کے بارے میں اتنے فکرمند ہیں تو انہیں اسمبلی سے مستعفی ہوکر تحریک کی صفوں میں شامل ہوجانا چاہیئے۔'

شوپیان دوہرے قتل کے خلاف مسٹر گیلانی نے دو دن ہڑتال کی جو کال دی تھی اس کی معیاد بدھوار کی شام کو ختم ہورہی ہے۔ مسٹر گیلانی نے بدھ کی شام اگلا پروگرام ظاہر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اِدھر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ حالات کوٹھیک کرنے میں ان کا ساتھ دیں۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا : 'اس بار سیاح اچھی تعداد میں آنے لگے تھے، لیکن پچھلے تین روز بہت کم سیاح آئے ہیں اور بُکنگس منسوخ ہورہی ہیں۔ہم نے تفتیش کے لئے کمیشمن قائم کیا ہے، ہمیں وقت دیجیئے۔'