ممبئی کا پہلا سمندری پُل

رات کو یہ پُل ایک انتہائی سحرانگیز منظر پیش کرتا ہے
،تصویر کا کیپشنرات کو یہ پُل ایک انتہائی سحرانگیز منظر پیش کرتا ہے
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

ممبئی کے ورلی اور مضافاتی علاقے باندرہ کو سمندر کے راستے جوڑنے والا بھارت کا پہلا سمندری پُل اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اگر بارش نہیں ہوئی تو اس راستے کو سولہ جون تک ٹریفک کے لیے کھول دیے جانے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔

انتہائی پیچیدہ لیکن جدید ٹیکنالوجی سے بنا یہ پُل روشنی میں بہت ہی سحر انگیز منظر پیش کرتا ہے۔ 5.6 کلومیٹر لمبا یہ پُل 1,634 کروڑ روپوں کی لاگت سے بنا ہے۔

ممبئی کے شہریوں کو اس پُل کے کھلنے کا برسوں سے انتظار تھا کیونکہ ممبئی اور اس کے مغربی مضافات کو جوڑنے کے لیے صرف ایک ہی راستہ ماہم کازوے ہے۔ اسی لیے ماہم کازوے انتہائی مصروف اوقات میں گاڑیوں سے سفر کرنے والوں کے لیے دردِ سر بن جاتا ہے۔ ممبئی کے ورلی علاقے سے باندرہ تک یعنی آٹھ کلومیٹر کا راستہ طے کرنے کے لیے اکثر ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے لیکن اس پُل کے ذریعہ اب یہ سفر محض سات منٹ میں طے ہو سکے گا۔

اس پُل پر آٹھ راستے ہوں گے دو لائینیں گاڑیوں کے لیے مخصوص ہوں گی۔ باقی پر بسیں اور بھاری گاڑیاں چلیں گی۔

مہاراشٹر سٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے اس پُل کو بنانے کا ٹھیکہ ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی کو دیا تھا۔ ایچ سی سی ترجمان کے مطابق اس برج کو کیبل سٹے سسٹم سے بنایا گیا ہے۔ سمندر میں اس برج کو بنانے کے لیے ماہی گیروں نے مخالفت کی تھی جس کی وجہ سے ورلی علاقے میں برج کو اونچا کیا گیا ہے تاکہ ماہی گیروں کو سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے ان کی کشتی اور بوٹ کی سرگرمی میں کسی طرح کی رکاوٹ نہ ہو۔ اسی لیے یہاں کیبل سٹے سسٹم کے ذریعہ برج کو اونچا کیا گیا ہے۔ جس کی لمبائی چھ سو میٹر اور اس کی اونچائی تقریباً ایک سو چھبیس میٹر ہے۔ سٹیل کے ان کیبل کے تاروں کا وزن بیس ہزار ٹن ہے۔

برج تقریباً تیار ہو چکا ہے لیکن ابھی ہالینڈ سے لائے گئے واٹر پروف ٹائلس کو سڑک پر بٹھانے کا کام جاری ہے اس کے بعد رنگ روغن کیا جائے گا۔

اس پُل کی تعمیر پر ڈیڑھ سو ارب روپے سے زیادہ کی رقم خرچ ہوئی ہے۔
،تصویر کا کیپشناس پُل کی تعمیر پر ڈیڑھ سو ارب روپے سے زیادہ کی رقم خرچ ہوئی ہے۔

اس پُل سے موٹر گاڑیاں بیسٹ کی بسیں اور بھاری گاڑیاں بھی گزریں گی لیکن انہیں ٹول ٹیکس دینا ہو گا۔ موٹر گاڑیوں کو پچاس روپیہ ، ہیوی وہیکل کو سو روپیہ ٹول ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ بیسٹ انتظامیہ مبمئی تفریح کرنے آنے والے سیاحوں کو یہاں کی سیر کرانے کے لیے خصوصی کھلی بسیں چلائے گی۔

باندرہ سے ورلی تک اس برج کو بنانے کے لیے پروجیکٹ سن دو ہزار ایک میں ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی کو تین سو کروڑ روپے میں دیا جانا تھا لیکن ماحولیات تحفظ تنظیموں اور ماہی گیروں نے اس کی سخت مخالفت کی اور عدالت میں مفاد عامہ کی کئی عرضداشت داخل کی گئی تھیں۔

عدالت سے منظوری کے بعد سن دو ہزار چار میں یہ پروجیکٹ شروع کیا گیا لیکن سمندر میں پُل بنانے کے لیے بارش کے دنوں میں بیشتر وقت کام کو روکنا پڑا تھا۔

اس پُل کے مکمل ہونے کے بعد اسی پُل کو توسیع دے کر بعد میں حاجی علی تک لایا جائے گا۔ لیکن ابھی اس پروجیکٹ کو شروع ہونے میں وقت لگے گا۔