امریکہ: بلو سٹار کے خلاف احتجاج

- مصنف, حسن مجتبیٰ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیو یارک
- وقت اشاعت
امریکہ میں رہنے والے سکھوں نے ’آپریشن بلو سٹار‘ کے پچیس سال پورے ہونے کے موقع پر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
ان افراد نے گولڈن ٹیمپل میں ہوئے آپریشن بلیو سٹار کے علاوہ آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
پچیس سال قبل بھارتی پنجاب کے امرتسر شہر میں واقع سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر اس وقت کی ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے فوجی کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔
حکومت کی طرف سے جاری قرطاس ابیض کے مطابق 83 فوجی مارے گئے اور 249 زخمی ہوئے۔ اسی وہائٹ پیپر کے مطابق 493 شدت پسند یا عام آدمی مارے اور 86 زخمی ہوئے اور 1592 کو گرفتار کیا گیا۔
یہ مظاہرہ جمعہ کو نیویارک میں بھارتی قونصل خانے کے سامنے شمع جلاکر کیا گیا ہے۔
بارش کے باوجود مرد، عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد نے شہر کے مشہور سنٹرل پارک میں ’کینڈل لائٹ وجل‘ نکال کر اپنے غصے کا مظاہرہ کیا جسے ہزاروں افراد نے دیکھا۔
احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے کے لیے نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ شمالی امریکہ کے کینیڈا سمیت دور دراز علاقوں سے بھی سکھ مردوں، عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد آئی ہوئي تھی۔
یہ مظاہرہ ’خالصہ امریکی کونسل وانشنگٹن ‘ نے منعقد کیا تھا اور اس کی قیادت خالصہ امریکی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر امرجیت سنگھ کرر ہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرین نے بھارتی حکومت کےخلاف اور سکھ حقوق کی حمایت میں زبردست نعرے بھی لگائے۔
مظاہرین نے جو بینر اٹھائے ہوئے تھے ان میں سے ایک بینر پر لکھا تھا ’کہیں بھی نا انصافی ہرجگہ انصاف کےلیے خطرہ ہے‘۔
مظاہرین سے خطاب میں مقررین نے ہندوستان کو مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں سمیت تمام اقلیتوں کےخلاف انتہاپسند ریاست قرار دیا۔
اس سے قبل خالصہ امریکی کونسل سمیت باون سکھ تنظیموں نے اخبار واشنگٹن ٹائمز میں ایک صفحے پر مشتمل اشہتار شائع کروایا تھا جس میں اس آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں تحریریں و تصاویر شامل تھیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی جانب سے سکھوں کے ساتھ مبینہ طور پر روکھے رویہ کا بھی ذکر بھی کیا گیا ہے۔
ادھر خالصہ کونسل کے سربراہ ڈاکٹر امرجیت سنگھ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایسا ہی ایک مظاہرہ سان فرانسسکو میں بھی ہوا ہے۔






















