بلیو سٹار کی برسی پر پر امن احتجاج

سکھ احتجاج
،تصویر کا کیپشنسخت گیر سکھ تنظیمیں آپریشن میں مارے گئے افراد کا میموریئل تعمیر کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں
وقت اشاعت

ہندوستان کی ریاست پنجاب کے امرتسر شہر ميں گولڈن ٹمپل پر حملے کی پچیسویں برسی کے موقع پر ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی ہے۔

اس موقع پر فوجی کارروائی کے خلاف پر امن مظاہرے کیے گئے اور سخت گیر سکھ تنظیموں کی جانب سے کارروائی کے دوران مارے گئے لوگوں کی یاد میں ایک یادگار تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

ان تنظیموں ميں دل خالصہ، دم دمی ٹکسال اور اکالی دل (امترسر) شامل ہیں۔ دل خالصہ کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سکھ تنظیم شرومنی گرودوارا پرابندھک کمیٹی کو ان سبھی لوگوں کی یاد میں ایک یادگار تعمیر کروانا چاہیے جو پچیس برس قبل آپریشن بلیو سٹار میں مارے گئے تھے۔

پچیس برس قبل پانچ جون کو بھارتی فوج سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹمپل ميں داخل ہو گئی تھی اور کافی خون خرابہ ہوا تھا۔

فوجی کارروائی کی سربراہی کر رہے لفٹیننٹ جنرل کے ایس براڑ کے مطابق آپریشن بلیو سٹار میں کم از کم تین سو شدت پسند اور سو فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس کارروائی کے دوران سکھوں کی مذہبی امور سے متعلق تنظیم اکال تخت کی عمارت تباہ ہو گئی تھی۔

یہ خصوصی تقریب سکھوں کے سب سے بڑے مذہبی گروپ سکھ پارلیمنٹ کی جانب سے منعقد کی گی۔ جس میں پنجاب کے دیگر علاقوں سے آئے عقیدت مندوں کے علاوہ سیاسی اور مذہبی سکھ تنظیموں نے بھی شرکت کی۔

پچیس برس قبل ہندوستان کی فوج نے گولڈن ٹیمپل میں مورچہ لیے ہوئے شدت پسندوں کو پکڑنے کے لیے مندر کے اندر داخل ہو گئی تھی۔ اس آپریشن کو ’آپریشن بلیو سٹار‘ کا نام دیا گیا تھا۔

اس کارروائی کا حکم اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے دیا تھا جنہیں بعد میں خود ان کے سکھ ذاتی محافظ نے قتل کر دیا تھا۔

اکتوبر انیس سو چوراسی میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دلی میں سکھ مخالف فسادات بھڑک اٹھے تھے جس میں تقریبًا تین ہزار سکھ مارے گئے تھے۔