قتل کے مقدمے میں رکن پارلیمان گرفتار

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
- وقت اشاعت
ہندوستان کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی نے آئی نے مہاراشٹر کے ممبر پارلیمان پدم سنہ پاٹل کو اپنے چاچا زاد بھائی پون راجے نمبالکر کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
پدم سنہ کو سنیچر کی دیر رات گرفتار کیا گیا۔ انہیں آج ہالی ڈے کورٹ میں پیش کیا گیا جس کے بعد عدالت نے انہیں پولیس تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔
تین سال قبل ہوئے اس قتل کے الزام میں پولیس نے پہلے ہی چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے ۔ ان میں مبینہ شوٹر دنیش تیواری ، میونسپل کارپوریٹر موہن شکلا ، پارس مل جین اور لاتور کے ایک ٹھیکہ دار شامل ہیں۔
سی بی آئی نے گزشتہ شب ان سے تفتیش کے بعد تعزیرات ہند کی دفعات تین سو دو اور ایک سو بیس بی یعنی قتل اور قتل کی سازش کے تحت مقدمہ درج کیا۔
پدم سنہ پاٹل نے گرفتاری کے بعد سینے میں درد کی شکایت کی تھی۔ انہیں ممبئی کے سرکاری جے جے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
جس عدالت میں پاٹل کو پیش کیا گیا وہاں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے کیونکہ پاٹل کی سیاسی جماعت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ورکرز گزشتہ شب سے ہی احتجاج کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ سب سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہے۔
چونسٹھ سالہ پاٹل مراٹھا لیڈر ہیں اور اس وقت عثمان آباد کے موجودہ ایم پی ہیں۔ وہ مہاراشٹر کی سیاست کا اہم حصہ مانے جاتے ہیں۔ ایم پی بننے سے قبل وہ ریاستی حکومت میں وزیر داخلہ کے عہدے پر رہ چکے ہیں۔
نمبالکر پر تین برس قبل تین جون کو نئی ممبئی کے علاقے میں دو موٹر سائیکل سواروں نے گولیوں کی بوچھار کر دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نمبالکر اس وقت اپنی گاڑی سے پونے جا رہے تھے۔ اس حملے میں ان کے ڈرائیور صمد قاضی کی بھی موت ہو گئی تھی۔
کانگریس لیڈر کی موت کے بعد حکومت نے یہ کیس کرائم برانچ کو سونپ دیا تھا۔ شروع میں پاٹل کا نام سامنے آیا تھا لیکن پولیس ان کے خلاف کوئی ثبوت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔
نمبالکر کی بیوی نے پولیس کی تفتیش پر سوال اٹھایا اور ہائی کورٹ میں یہ کیس سی بی آئی کےحوالے کرنے کی اپیل داخل کی تھی۔ عدالت نے اکتوبر سن دو ہزار آٹھ میں یہ کیس سی بی آئی کے حوالے کیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم پارس مل جین کو اس دوران دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اس نے مبینہ طور پر نمبالکر کے قتل کی سازش کا راز کھول دیا۔ جس کے بعد سی بی آئی نے اس کیس کی گتھیاں سلجھانا شروع کر دیں۔
اس کے علاوہ جین کی بیٹی نے سی بی آئی کو ایک خط کے ذریعہ بتایا کہ اس کے والد اکیلے نہیں ہیں بلکہ یہ قتل انہوں نے ایک ایم پی کے کہنے پر کیا ہے۔






















