بامبے سٹاک ایکسچینج ميں زبردست اچھال

نئی حکومت نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ بجٹ میں اخراجات بڑھانے پر غور کرے گی
،تصویر کا کیپشننئی حکومت نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ بجٹ میں اخراجات بڑھانے پر غور کرے گی
وقت اشاعت

بامبے سٹاک ایکسنچ میں بدھ کے روز چار سو چونتیس پوائنٹ یعنی دو اعشاریہ ستاسی فیصد کا اضافہ درج کیا گیا اور سینسکس پندرہ ہزار پانچ سو اکسٹھ اعشاریہ گیارہ تک پہنچ گیا ہے۔

بھارت کی بازار حصص میں تقریبا ایک برس میں اب تک کا یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس طرح کی تیزی گزشتہ برس اگست کے مہینے میں دیکھنے کو ملی تھی۔

نئی حکومت نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ بجٹ میں اخراجات بڑھانے پر غور کرے گی تاکہ ملک کی اقتصادی ترقی کی رفتار سست نا ہونے پائے۔ ماہرین کے مطابق بجٹ سے لوگوں کی کافی امیدیں وابستہ ہیں اور بازار میں یہ تیزی اسی کا نتیجہ ہے۔

نیشنل سٹاک ایکسچینجح میں بھی تقریبا تین فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور نفٹی بدھ کے روز چار ہزار چھ سو ستاسی اعشاریہ پچانوئے تک پہنچ گیا۔ املاک، دھات اور بینکنگ جیسے شعبوں کے شیئر میں سب سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا۔

ادھر وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے بینکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قرضوں کے لین دین میں آسانیاں پیدا کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار بڑھانے کے لیے بینکوں کو چاہیے کہ وہ سود کی شرحوں میں کمی کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے اپنے ریٹس میں کمی کردی تھی لیکن بینکوں نے اسے صحیح سے نافذ نہیں کیا ہے جس سے قرض کی سود میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی ہے۔ '' میں زور دونگا کہ بینک ان تشویشات کا ازالہ کریں اور اس بارے میں خاطر خواہ اقدامات کریں۔ مالی بچولیے کی حیثیت سے بینکوں کو قرض مناسب شرح پر دینا چاہیے۔''

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہوگی جس سے عام آدمی کو بھی فائدہ پہنچےگا۔

انتخابات سے قبل حکومت نے عبوری بجٹ پیش کیا تھا اور رواں سال کا باقاعدہ بجٹ جون کے اواخر میں پیش کیا جائیگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کی شرح کو تیز کرنے کے لیے بجٹ میں خصوصی توجہ دی جائیگی۔