بھارتیہ جنتا پارٹی کی 'امیج' بدلنے کی کوشش

پارٹی کے اندر الزام تراشی کا سلسلہ پوری شدت سے جاری ہے اور اب سرکردہ رہنماؤں کے آپسی اختلافات منظر عام پر آنے لگے ہیں
،تصویر کا کیپشنپارٹی کے اندر الزام تراشی کا سلسلہ پوری شدت سے جاری ہے اور اب سرکردہ رہنماؤں کے آپسی اختلافات منظر عام پر آنے لگے ہیں
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

پارلیمانی انتخابات میں شکست کے بعد لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو 'امیج میک اوور' کے لیے ہندوتوا کا سخت گیر اجنڈا ترک کرنا پڑ سکتا ہے۔

پارٹی کے اندر الزام تراشی کا سلسلہ پوری شدت سے جاری ہے اور اب سرکردہ رہنماؤں کے آپسی اختلافات منظر عام پر آنے لگے ہیں۔ اس رسہ کشی کے دو پہلو ہیں۔ایک یہ کہ لال کرشن اڈوانی کے بعد پارٹی کی قیادت کون سنبھالے اور دوسرا یہ کہ کیا ہندوتوا کے نام پر اب بھی ووٹ حاصل کیے جاسکتے ہیں؟

سابق وزیر ارون جیٹلی، اڈوانی کے معتمد سدھیندر کلکرنی اور اب سینئر رہنما جسونت سنگھ پارٹی کے سخت گیر نظریات پر نظر ثانی کی وکالت کر رہے ہیں۔

جہاں تک ہندوتوا کی افادیت کا سوال ہے تو اس کا جواب شاید پارٹی کو دو ہزار چار اور پھر دو ہزار نو میں مل چکا ہے لیکن جسونت سنگھ نے ایک سوال یہ بھی اٹھایا ہے کہ ہندوتوا آخر ہے کیا؟

اس کا جواب سپریم کورٹ نے انیس سو پچانوے میں دیا تھا۔جسٹس جے ایس ورما نے شو سینا کے لیڈر منوہر جوشی کے اس انتخابی وعدے کو آئین کی روشنی میں درست قرار دیا تھا کہ وہ مہارشٹر کو ملک کی پہلی ہندو ریاست میں تبدیل کردیں گے۔

جوشی نے یہ اعلان انیس سو ترانوے کے ممبئی بم دھماکوں کے بعد کیا تھا۔ اسمبلی انتخابات کے بعد وہ ریاست کے وزیر اعلی بنے تو مہارشٹر ہائی کورٹ نے ان کے انتخاب کو یہ کہتےہوئے کاالعدم قرار دے دیا کہ انہوں نے فرقہ پرستی کی بنیاد پر ووٹ مانگ کر آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی تھی۔ یہ معاملہ جب سپریم کورٹ میں پہنچا تو پہلی مرتبہ قانون کی روشنی میں ہندوتوا کی تشریح کی گئی۔

عدالت نے کہا کہ 'ہندوتوا ایک طرز زندگی یا ذہنی کیفیت ہے اور اسے ہندو مذہبی بنیاد پرستی کے زمرے میں نہیں رکھا جاسکتا۔'

عدالت نے یہ بھی کہا کہ 'ہندوتوا در اصل ہندوستانیت (انڈین آئی زیشن) کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہے یعنی ملک میں پنپنے والے تمام کلچرز یا تہذیبوں میں جو فرق ہیں، انہیں ختم کرکے ایک یونیفارم کلچر کا قیام۔'

ظاہر ہے کہ جسونت سنگھ کو بھی اس فیصلے کا علم ہوگا۔ لیکن وہ شاید یہ بحث شروع کرنا چاہتے ہیں کہ ہندوتوا گزرے ہوئے کل کا اجنڈا ہے جس پر پارٹی اگر عمل پیرا رہی تو وہ ماضی میں ہی الجھی رہے گی۔ ماہرین قانون اور شہری حقوق کی تنظیمیں زمانے سے یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ سپریم کورٹ کی ایک وسیع تر بنچ ان فیصلوں پر نظرثانی کرے۔

عدالت میں تو اس کی نوبت نہیں آئی لیکن ہو سکتا ہے کہ انتخابی میدان میں ہندوتوا کی چمک ماند پڑ جانے کے بعد بی جے پی خود ہی اس نظریہ سے منہہ موڑ لے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک میں سیاست کی شکل ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی