کشمیر: چدامبرم کی آمد پر مظاہرے

ّّyyپی چدامبرم کی آمد سے پہلے بدھ کو بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنّّyyپی چدامبرم کی آمد سے پہلے بدھ کو بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

دو خواتین کے ساتھ سرکاری فورسز کی مبینہ جنسی زیادتی اور ان کے قتل سے رونما حالات کا جائزہ لینے کے لئے ہندوستان کے وزیرداخلہ پی چدامبرم کڑے سیکورٹی انتظامات کے درمیان کشمیر کے ایک روزہ دورے پر جمعرات کو سرینگر پہنچے ہیں ۔

مسٹر چدامبرم کی آمد پر یہاں کے یونیورسٹی اساتذہ اور سرکاری ملازمین نے مظاہرے کئے ہیں۔ اس دورے سے ایک روز قبل یعنی بدھ کی شام کو حکومت نے سرکردہ علیٰحدگی پسند شبیر احمد شاہ سمیت کم از کم پندرہ رہنماؤں کو قید کرلیا ہے۔

اس دوران نواسی سالہ علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ پولیس حراست میں لاپتہ ہوگئے ہیں۔

سرینگر پہنچتے ہی چدامبرم نے فوج، نیم فوجی اداروں اور خفیہ تنظیموں پر مشتمل ملک کے سب سے بڑے انسداد دہشت گردی اتحاد یونیفائڈ ہیڈکوارٹرز کے اجلاس کی صدارت کی۔

جھیل ڈل کے کنارے واقع صوبائی حکومت کے عالمی کنوینشن کمپلیکس میں معنقدہ اس اجلاس میں یونیفائڈ ہیڈکوارٹرز کے چیئرمین اور صوبے کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور صوبائی انتطامیہ کے اعلیٰ افسروں نے بھی شرکت کی۔

واضح رہے چدامبرم کی دورے سے چند روز قبل ہی وادی بھر میں طلبہ و طالبات نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا۔

منگل کو پولیس ایکشن میں چالیس طلبا زخمی ہوئے۔ بدھوار کو سرینگر، بارہمولہ اور اننت ناگ میں سکولوں اور کالجوں کی طالبات نے شوپیان کی واردات میں ملوثین کو سزا دلوانے کے حق میں مظاہرے کئے۔

جمعرات کو جب وزیرداخلہ سرینگر پہنچے تو سرکاری ملازمین کی تنظیم ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر سینکڑوں ملازمین اپنے بازؤں پر کالے بلے باندھے لالچوک میں جمع ہوگئے اور فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

اس دوران صوبے کی بڑی دانشگاہ کشمیر یونیورسٹی کے اساتذہ نے بھی یونیورسٹی احاطہ میں علامتی دھرنا دیا ۔

حزب اختلاف پی ڈی پی اور بیشتر علیحدگی پسند گروپوں نے پہلے ہی مطالبہ کیا ہے کہ صوبے پر نافذ آرمڈ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ کا نفاذ ختم کیا جائے۔

بھارتی وزیرداخلہ کی سرینگر آمد سے ایک دن قبل طلبا نے وادی بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ آج کشمیریونیورسٹی کے استاتذہ نے بھی یونیورسٹی احاطہ میں مظاہرہ کیا۔

واضح رہے سرینگر سے ساٹھ کلومیٹر دُور جنوبی ضلع شوپیان میں تیس مئی کو بائیس سالہ حاملہ خاتون نیلوفر اور اس کی سترہ سالہ نند آسیہ کی لاشیں قصبہ کی ندی سے ملی تھیں۔ مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں سرکاری فورسز نے اغوا کیا اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد انہیں قتل کردیا گیا۔

اس واقعہ کے خلاف پورے کشمیر میں تحریک برپا ہوگئی اور آٹھ روز تک زندگی معطل ہوگئی۔ نظربند رہنما سید گیلانی نے جمعہ کے روز پلوامہ کی طرف پیش قدمی کی کال دی ہے، اوراس کال کی میرواعظ عمر فاروق نے بھی حمایت کی ہے۔