ایودھیاسےمتعلق دستاویزات غائب

بابری مسجدی انہدام سے قبل
،تصویر کا کیپشنبابری مسجد شہادت سے پہلے جہاں اب ایک عارضی مندر تعمیر ہو چکا ہے
    • مصنف, رام دت ترپاٹھی
    • عہدہ, بی بی سی ، لکھنو
  • وقت اشاعت

ان دنوں ریاست اترپردیش میں سرکاری حکام ایودھیا میں بابری مسجد بنام رام جنم بھوی تنازعے سے متعلق کچھ پرانے کاغذات تلاش کرنے میں سرگرداں ہیں اور ان کے نا ملنے پر ہنگامہ بر پا ہے۔

اس معاملے میں ہائی کورٹ نے ریاستی سرکار کو سخت لہجے میں ان کاغذات کو تلاش کرکے جلد سے جلد عدالت کے سامنے پیش کرنے کو کہا ہے۔

یہ کاغذات دسمبر 1949 میں متنازعہ مسجد کے احاطے میں شری رام کی مورتیاں رکھنے کے فورا بعد ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ کے درمیان ہوئے خط وکتابت اور اس کے جواب میں اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی جانب سے بھیجے گئے تار سے متعلق ہیں۔ عدالت نے معاملے کی سماعت کے دوران اس بات پر ناراضگی جتائی ہے کہ ریاستی حکومت اس معاملے میں گزشتہ پانچ سال سے ٹال مٹول کررہی ہے۔

بحث کے دوران عدالت نے کہا کہ لگتا ہے کہ حکومت اس معاملے میں جلدی فیصلہ نہیں چاہتی اور معاملے کو حل کرنا نہیں چاہتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ چونکہ معاملہ زیر سماعت ہے اس لیے اس سے متعلق فائلیں ختم نہیں کی جاسکتیں۔

عدالت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کاغذات پیش نہیں کیے گئے تو توہین عدالت کے الزام میں ریاست کے پرنسپل سیکریٹری اور داخلہ سیکریٹری کے خلاف سخت کاروائی کا حکم دیا جاسکتا ہے۔

ریاستی حکومت کے ایک اہلکار کے مطابق دستاویزات کی تلاش میں کئی دن گزر گئے ہیں۔ یہ کل سات کاغذات ہیں۔

سنہ 2002 میں سنی وقف بورڈ نے ان کاغذات کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی پیشکش کی تھی۔ عدالت نے 2004 میں ریاستی سرکار کو ان کاغذات کی کاپی پیش کرنے کے لیے کہا تھا۔

اس وقت سرکاری وکیل نے عدالت سے کہا تھا کہ کاغذات سرکار کے پاس ہیں اور پیش کردیئے جائیں گے۔ بعد میں سرکار نے دو دستاویزات کی فوٹی کاپی عدالت میں پیش کی تھیں جسے عدالت نے ' انویلڈ' قرار دیا تھا۔ ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے متنازعہ مسجد میں 22 اور 23 دسمبر 1949 کی رات مورتی رکھی جانے پر اس وقت کے وزیر اعلی گوند ولبھ پنت سے ناراضگی جتائی تھی اور ان سے مورتی ہٹانے کی بات کہی تھی۔

بھارت میں ایودھیا کے مقام پر مغل شہنشاہ بابر کے دور کی ایک شاندرا '' بابری مسجد '' کو سخت گیر ہندو کارسیوکوں نے سنہ انیس سو بانوئے میں مسمار کردیا تھا۔ حکومت نے اس کی تفتیش کا حکم دیا تھا جو آج تک مکمل نہیں ہوسکی اور اس مقدمے کی سماعت بھی بہت سست روی سے ہورہی ہے۔