کشمیر : فوجی انخلا پر غور

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
- وقت اشاعت
بھارتی وزیرداخلہ پی چدامبرم نے جمعہ کے روز سرینگر میں انکشاف کیا ہے کہ کشمیر کے آبادی والے علاقوں سے فوج کی مرحلہ وار واپسی کا منصوبہ حکومت ہند کے زیرغور ہے تاہم اس کا کوئی 'ٹائم فریم' مقرر نہیں کیا جاسکتا۔
چدامبرم حالیہ احتجاجی تحریک سے پیداشدہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک روزہ خصوصی دورے پر کشمیر آئے تھے۔ نئی دلّی واپسی سے قبل سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران مسٹر چدامبرم نے بتایا : 'ہم سمجھتے ہیں کہ فوج کا کام سرحدوں کی نگرانی اور دہشت گردی سے مقابلہ کرنا ہے۔ شہروں اور بستیوں میں امن و قانون سے نمٹنے کا کام تو پولیس کا ہوتا ہے۔''
'' ہم چاہتے ہیں نیم فوجی عملہ کا رول بھی کم کیا جائے اور جموں کشمیر پولیس ہی امن و قانون کی ذمہ داری سنبھالے۔ یہاں کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے دو بار میرے ساتھ یہ مسئلہ اُٹھایا، ہم پہلے ہی اس پر غور کررہے ہیں۔ میں دوبارہ وزیراعظم اور وزیردفاع سے بات کرونگا۔ فوج کو آبادی والے علاقوں سے مرحلہ وار طریقہ پر نکالا جائے گا لیکن اس کے لئے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا۔ ''
بھارتی وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ کشمیر میں فی الوقت ملی ٹینسی زوال پذیر ہے لیکن عوامی مزاحمت اور احتجاجی مظاہروں کا چلن زور پکڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا : 'جمہوری حکومتوں میں عوامی مظاہرے کرنا غلط بات نہیں ہے، لیکن مظاہرے کروانے والے عام زندگی کو معطل کرنا چاہتے ہیں جس کی ہم اجازت نہیں دینگے۔' وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے سیاسی اور معاشی مسائل پر توجہ دی جائے گی اور حالات کو ٹھیک کرنے کے لئے لوگوں کے تمام نمائندوں سے بات کی جائے گی۔
اس دوران جمعہ کے روز علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے 'پلوامہ چلو' کال کے پیش نظر شہر اور دیگر قصبوں میں سیکورٹی پابندیاں نافذ کی گئیں۔ جنوبی ضلع شوپیان میں جمعہ کو بارہویں روز بھی عام زندگی متاثر رہی، کیونکہ وہاں لوگوں نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور اعلان کیا ہے کہ تیس مئی کو سترہ سالہ آسیہ اور اس کی بائیس سالہ بھابی کے ساتھ مبینہ طور پرسرکاری فورسز کی جنسی زیادتی اور بعد میں قتل میں ملوث اہلکاروں کو سزا ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔


















