کشمیر: نائب صدر کا دورہ، تشدد اور ہڑتال

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
- وقت اشاعت
بھارتی نائب صدر محمد حامد انصاری کی آمد پر ہندوستان کے زیرانتظام کشمیرمیں ہڑتال اور ممکنہ احتجاج کے پیش نظر وادی بھر میں سکیورٹی انتظامات انتہائی سخت کر دیئے گئے ہیں۔
اس دوران دو پراسرار بم دھماکوں میں دو افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے پولیس نے ایک کو مسلح شدت پسند قرار دیا۔
پولیس کے مطابق پرانے سرینگر کے ایک رہائشی مکان میں تین شدت پسند بارودی سرنگیں تیار کررہے تھے کہ اچانک ایک سرنگ زور دار دھماکے سے پھٹ گئی اور ان میں سے فردوس احمد ڈار نامی لڑکا ہلاک ہوگیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پہلے شدت پسندی کا راستہ ترک کرنے کے بعد یہ لوگ دوبارہ شدت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوگئے تھے۔
بعد ازاں جمعہ کی ہی شام سیاحوں کی بھیڑ کے لئے مشہور جھیل ڈل کےعلاقے میں کسی نامعلوم شخص نے سیاحوں سے بھری ایک بس پر ہتھ گولہ پھینکا جو نشانے پر نہیں لگا، تاہم یہ بم دھماکہ نزدیکی دوکان میں جاگرا اور اس کی زد میں آکر مقامی تاجر عبدالسلام شیخ ہلاک ہوگیا۔
ان واقعات کے بعد پورے سرینگر شہر میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کردیا گیا ہے جبکہ علیٰحدگی پسندوں کی کال پر وادی میں ہڑتال کی جارہی ہے۔
اِدھرکشمیر یونیورسٹی میں نائب صدرکی موجودگی کے دوران مظاہروں کو روکنے کےلئے یونیورسٹی حکام نے یونیورسٹی میں مقیم سٹاف ، سکالرز اور طلبا و طالبات کو تین روز قبل ہی کیمپس خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یونیورسٹی طلبا نے اس حکمنامہ کے ردعمل میں نائب صدر کے اعزاز میں مجوزہ تقریب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے محمد حامد انصاری سنیچر کو وادی وارد ہو رہے ہیں اور یہاں وہ کشمیر یونیورسٹی کے سالانہ کانوکیشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔
اس کانوکیشن میں صوبے کے گورنر نریندر ناتھ ووہرا اور وزیراعلیٰ عمرعبداللہ بھی شرکت کررہے ہیں۔ نائب صدر ہند کی آمد کے خلاف پہلے ہی حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے نے مکمل ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔
اس دوران اہم ترین شخصیات کی آمد کے سلسلے میں پولیس اور نیم فوجی عملے نے قریب قریب پانچ مربع میل پر محیط کشمیر یونیورسٹی کے گرد سخت حفاظتی حصار قائم کرلیا ہے۔
یونیورسٹی کے احاطے کے اندر اور گرد و نواح کے علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے جبکہ یونیورسٹی کی طرف جانے والے راستوں پر جگہ جگہ موبائل فون کے سگنل جام کرنے والے آلات اور خفیہ کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔
اِدھر یونیورسٹی انتظامیہ پر زیادتیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے طلبا اور ہوسٹلوں میں مقیم طالبہ اور دانشوروں نے کانوکیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
یونیورسٹی سیکورٹی پر مامور ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا 'شوپیان واردات کی وجہ سے پہلے ہی تناؤ کے حالات ہیں۔ اور ہمیں خبر ملی تھی طلبا نائب صدر کی آمد پر احتجاج کرینگے، لہٰذا احتیاط کے طور ہمیں کچھ پابندیاں نافذ کرنا پڑیں۔'
کشمیر یونیورسٹی کے سکالرز ہوسٹل میں مقیم بشارت احمد نے بتایا 'سیکورٹی کے نام پر طلبا اور طالبات کو بے دخل کردیا گیا۔ ہوسٹلوں میں دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو کافی تکلیف ہوئی اور انہیں سرینگر میں اپنی سہیلیوں کے یہاں پناہ گزیں ہونا پڑا۔ ہم اس رویہ کے خلاف احتجاج کے بطور اس تقریب میں شرکت نہیں کرینگے۔'






















