کشمیر ریپ :پانچ پولیس اہلکار معطل

شوپیان میں پچھلے تین ہفتوں سے مسلسل ہڑتال ہے اور لوگ سڑکوں پر ہیں
،تصویر کا کیپشنشوپیان میں پچھلے تین ہفتوں سے مسلسل ہڑتال ہے اور لوگ سڑکوں پر ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں تین ہفتوں سے تناؤ کا باعث بنے ڈبل ریپ واقعہ کی تفتیش کرنے والے عدالتی کمیشن کی سفارش پر حکومت نے پانچ پولیس افسروں کو معطل کردیا ہے۔کئی ہفتوں سے کشمیر میں اتھل پتھل کا باعث بنی ریپ اور قتل کی ایک واردات کی تفتیش کررہے عدالتی کمیشن نے ابتدائی تحقیقات پر مبنی عبوری رپورٹ پیش کی تھی۔ رپورٹ میں کمیشن نے پولیس افسران اور فارینسک سائنٹفک لیبارٹری کے ایک عہدیدار کے خلاف کاروائی کی سفارش کی تھی۔

کمیشن کی سفارش پر فوری عمل کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے پانچوں افسران کی معطلی کے احکامات صادر کیے اور انہیں زونل پولیس ہیڈکوارٹر کے حوالے کردیا۔ محکمہ داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ کمیشن کی سفارشات کی روشنی ان افسروں پر لگے الزامات کا جائزہ ایک محکمانہ انکوائری کمیشن لےگا جس کی سربراہی خفیہ پولیس کے انسپکٹر جنرل فاروق احمد کرینگے۔

رپورٹ میں عدالتی کمیشن نے ان افسروں کو تفتیشی کام میں غفلت کا مرتکب ٹھہرایا ہے اورکہا ہے کہ ان افسروں کی غفلت کے سبب اس کیس سے متعلق اہم شواہد ضائع ہوگئے ۔

واضح رہے اُنتیس اور تیس مئی کی درمیانی رات کو یہاں سے ساٹھ کلومیٹر دور جنوبی ضلع شوپیان میں بائیس سالہ حاملہ خاتون نیلوفر اپنی سترہ سالہ نند آسیہ کے ہمراہ باغ میں کام کے دوران لاپتہ ہوگئی تھیں۔ تیس مئی کی صبح ان کی لاشیں نزدیکی نالے سے برآمد ہوئی تھیں۔

اس کے بعد حکومت نے عوامی دباؤ کے پیش نظر سرکاری افسروں کی تفتیش کی بجائے اس معاملے کی تہہ تک جانے کے لیے ریٹائرڑ جج جسٹس مظفرجان کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن قائم کیا تھا۔ جسٹس جان نے یہ تفتیش آٹھ جون کو شروع کرکے واردات کے چشم دید گواہوں اور دیگر متعلقین کے بیانات قلمبند کیے۔

Image

گو کہ جان کمیشن کو حکومت نے رپورٹ مکمل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دے دیا ہے، تاہم کمشین کے سربراہ جسٹس مظفر جان نے بی بی سی کو بتایا کہ 'وزیراعلیٰ کا اصرار تھا کہ واردات کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی پتہ لگایا جائے کہ کہیں انتظامیہ نے غفلت کا مظاہرہ تو نہیں کیا۔

’ہماری اس عبوری رپورٹ میں انتظامیہ کی غفلت اور شواہد کو ضائع کرنے سے متعلق جائزہ درج ہے جو عینی شاہدین اور باقاعدہ تفتیش پر مبنی ہے‘۔ جسٹس جان کا کہنا تھا کہ مفصل رپورٹ اپنے وقت پر پیش ہوگی‘۔

اس دوران شوپیان میں پچھلے تین ہفتوں سے مسلسل ہڑتال ہے اور لوگ سڑکوں پر ہیں۔ مظاہرین نیلوفر اور آسیہ کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کررہے ہیں اور انصاف ملنے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعادہ کررہے ہیں۔ تاہم اس دوران سرینگر اور دیگر قصبوں میں زندگی معمول پر آگئی ہے اور علیٰحدگی پسندوں نے ایک ہفتے کے لیے احتجاجی ہڑتالوں کا سلسلہ ترک کرنے فیصلہ کیا ہے۔

شوپیان کے ڈبل ریپ میں ملوث افراد کو سزا دلوانے کے حق میں پوری وادی میں حکومت مخالف تحریک چھِڑ گئی جس میں دو افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔ اس دوران اکثر ایام ہڑتالوں اور بغیر اعلان کے کرفیو کی نظر ہوگئے۔ حکام نے مزید مظاہروں کے خدشہ سے تمام سرکردہ علیٰحدگی پسند رہنماؤں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت وادی سے باہر جیلوں میں قید کردیا ہے۔