لال گڑھ مذاکرات: پیشکش کا اعادہ

مغربی بنگال کے علاقے لال گڑھ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی رکوانے کی کوشش میں ماؤ نواز باغیوں نے ایک بار پھر مذاکرات کی پیش کش دہرائی ہے اسی دوران باغیوں نے بہار کے لکھی سرائے ضلع میں ایک عدالت پر حملہ کر کے اپنے ایک ’کمانڈر‘ کو رہا کرا لیا ہے۔
لال گڑھ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے خلاف پانچ ریاستوں میں اپنی ہڑتال کے دوسرے دن مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے ایک لیڈر ساگر نے کہا کہ ’اگر وہ دانشور جنہوں نے اتوار کو لال گڑھ کا دورہ کیا تھا، میٹنگ کا بندوبست کریں تو ہم مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں‘۔
یہ بیان وفاقی حکومت کی جانب سے ماؤ نواز کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائد کیے جانے کے ایک روز بعد آیا ہے لیکن مغربی بنگال کی کمیونسٹ حکومت اس پابندی کے حق میں نہیں ہے اور قانونی ماہرین سے اس بارے میں صلاح مشورہ کر رہی ہے کہ وفاقی حکومت کے فیصلے پر عمل کرنا اس کے لیے کتنا ضروری ہے۔
بات چیت کے لیے نکسل باڑیوں نے یہ شرط رکھی ہے کہ فوری طور پر کارروائی ختم کرکے سکیورٹی فورسز کو علاقے سے واپس بلا لیا جائے۔
نکسل باڑیوں نے مغربی بنگال اور اڑیسہ کی سرحد پر واقع تقریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر کےاس علاقے کو ’آزاد‘ کرا کے اپنا کنٹرول قائم کر لیا تھا۔
باغیوں کے ترجمان گوڑ چکرورتی کے مطابق مذاکرات کا ایجنڈا وہ شرائط مان لیے جانے کے بعد طے کریں گے۔
بنگال میں تھیٹر اور فلمی دنیا کی کئی ممتاز شخصیات نے اتوار کو لال گڑھ جاکر چھترادھار مہتو سے ملاقات کی تھی جو اس علاقے میں پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ اس وفد نے باغیوں اور سکیورٹی فورسز دونوں سے ضبط سے کام لینے کی درخواست کرتے ہوئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بھی کہا تھا کہ وہ باغیوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر بہار سے اطلاعات ہیں کہ باغیوں نے ایک ٹیلی فون ٹاور اور کمیونٹی سینٹر کو نشانہ بنایا ہے لیکن ریاست میں ہڑتال سے عام زندگی زیادہ متاثر نہیں ہوئی ہے۔
مغربی بنگال میں مغربی مدناپور، پورولیا اور بانکوڑا اضلاع میں ہڑتال کا اثر ہوا ہے جب کہ اڑیسہ کے ملکان گری ضلع میں دو باغیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
پیر کو وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز لال گڑھ میں اپنی پوزیش مضبوط کر رہی ہیں اور جلد ہی نئے علاقوں میں داخل ہونا شروع کریں گی۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق باغیوں نے بہار کے لکھی سرائے ضلع میں ایک عدالت پر حملہ کرکے اپنے ایک ’کمانڈر‘ کو رہا کرا لیا ہے۔ ضلع میجسٹریٹ پی کے جھا کہ مطابق حملے میں جدید ترین ہتھیاروں سے لیس پچاس شدت پسندوں نے حصہ لیا۔ اس کارروائی میں دو پولیس کانسٹبل زخمی ہوگئے۔ اسی دوران مغربی بنگال کی کمیونسٹ حکومت نے جو ماؤ نواز کمیونسٹوں پر عاید کی جانے والی پابندی کے حق میں نہیں تھی، اب کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی پابندی ریاست میں بھی لاگو ہوگی۔






















