راج ٹھاکرے کی گرفتاری اور رہائی

راج ٹھاکرے
،تصویر کا کیپشنعدالت نے راج ٹھاکرے کو مشروط ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

کلیان کی عدالت نے مہاراشٹر کی علاقائی سیاسی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا (منسے) کے سربراہ راج ٹھاکرے کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ممبئی سے متصل کلیان عدالت میں پیر کی صبح ٹھاکرے نے خود سپردگی کی۔ ان کی پیشگی ضمانت کے خلاف ریاستی حکومت کی اپیل کو عدالت نے قبول کیا تھا اور انہیں عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے پہلے ٹھاکرے کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اس کے بعد انہیں تیرہ جولائی تک عدالتی حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔ ٹھاکرے کے وکیل سیاجی نانگرے نے عدالت میں اپنے موکل کی ضمانت کی اپیل داخل کی جس پر عدالت نے انہیں مشروط ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

کلیان عدالت کے جج نے ٹھاکرے کو ضمانت دیتے ہوئے شرط عائد کی ہے کہ اگر انہوں نے اشتعال انگیز تقاریر کیں، ذات پات اور علاقائی بنیاد پر تفرقہ پھیلایا تو ان کی ضمانت مسترد کی جا سکتی ہے۔

پیر کی صبح سے ہی کلیان عدالت کے باہر منسے ورکروں کا ہجوم تھا۔ وہ ٹھاکرے کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔ حالات کو کنٹرول میں کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس موجود تھی۔

گزشتہ اکتوبر کلیان میں شمالی ہند کے طلبا ریلوے بورڈ کے امتحانات دینے آئے تھے ان طلبا پر منسے کے سیاسی ورکروں نے لاٹھیوں سے حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں کئی طلبا شدید زخمی ہوئے تھے۔ کلیان ریلوے پولیس نے ٹھاکرے کے خلاف نفرت اور تشدد بھڑکانے جیسے الزامات کے تحت کیس درج کیا تھا لیکن زیریں عدالت نے ٹھاکرے کو پیشگی ضمانت دے دی تھی۔

کلیان میں شمالی ہند کے طلبا کی پٹائی کے بعد راج ٹھاکرے کی پارٹی کے ورکروں نے پورے شہر ہی میں نہیں مہاراشٹر میں شمالی ہند کے لوگوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ منسے کی اس کارروائی کے خلاف مرکز میں کافی ہنگامہ بھی ہوا تھا۔ ٹھاکرے کے خلاف پورے مہاراشٹر کے کئی علاقوں اور بہار جھار کھنڈ میں کئی مقدمات درج کیے گئے۔

ٹھاکرے پُرتشدد علاقائی سیاست کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ جب وہ شیوسینا میں تھے تب بھی وہ اسی طرح کی ہنگامہ آرائی اور فرقہ پرست سیاست کے لیے جانے جاتے تھے۔

اپنی پارٹی کے قیام کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے ایک مرتبہ پھر وہی طریقہ کار اپنایا۔ گزشتہ برس لگاتار شمالی ہند کے رہنے والوں پر حملوں کے بعد عدالتوں اور پولیس نے ان پر اشتعال انگیز تقاریر نہ کرنے کے لیے پابندی عائد کی تھی لیکن انہوں نے کبھی اس پر عمل نہیں کیا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹھاکرے اس طرح کی سیاست کے ذریعہ مقامی مراٹھی ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے اس طریقہ کار کے ذریعہ وہ ہمیشہ کامیاب بھی رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جب سے وہ شیوسینا سے علیحدہ ہوئے ہیں تب سے شیوسینا گرفت مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

علاقائی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی اور مراٹھی اخبار لوک ستا کے مدیر کمار کیتکر کے مطابق منسے اس وقت شیوسینا سے زیادہ طاقتور بن کر ابھر رہی ہے اور اس کی وجہ محض یہ ہے کہ مقامی لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے حقوق کی لڑائی صرف راج ٹھاکرے ہی لڑسکتے ہیں۔

اس مرتبہ کے پارلیمانی الیکشن میں ان کی پارٹی نے پہلی مرتبہ الیکشن لڑا اور کسی بھی پارٹی سے الحاق کے بغیر ممبئی کی چھ نشستوں میں سے دو پر ان کی پارٹی کے نمائندے دوسرے نمبر پر رہے جب کہ شیوسینا بھارتیہ جنتا پارٹی اتحاد کو ممبئی میں ایک بھی سیٹ پر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔