بابری مسجد تحقیقات مکمل

اس تاریخی مسجد کے مسمار کیئے جانے کے بعد بھارت کے مختلف شہروں میں فرقہ وارانہ فسادات میں بہت سے مسلمان ہلاک کر دیئے گئے تھے
،تصویر کا کیپشناس تاریخی مسجد کے مسمار کیئے جانے کے بعد بھارت کے مختلف شہروں میں فرقہ وارانہ فسادات میں بہت سے مسلمان ہلاک کر دیئے گئے تھے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دلی
  • وقت اشاعت

سترہ سال کی تفتیش کے بعد جسٹس لیبرہان کمیشن نے بابری مسجد کی مسماری پر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی ہے۔

چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی مسماری کے دس روز بعد قائم کیے جانے والے اس انکوائری کمیشن کو تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

لیکن کمیشن کی درخواست پر اڑتالیس مرتبہ اس کی معیاد کی مدت میں توسیع کی گئی۔ انکوائری کے دوران بی جے پی کے سینیر رہنماء لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اما بھارتی اور کلیان سنگھ بھی رٹایئرڈ جسٹس ایم ایس لیبرہان کے سامنے پیش ہوئے۔

کمیشن کو ان حالات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی تھی جن کے نتیجے میں بابری مسجد مسمار ہوئی۔

سب سے زیادہ دلچسپی اب اس بات میں ہے کہ کمیشن نے بابری مسجد کی انہدام میں ایل کے اڈوانی اور کلیان سنگھ ( جو اس وقت اتر پردیش کے وزیر اعلی تھے) کے کردار کے بارے میں کیا کہا ہے۔

اڑتالیس مرتبہ توسیع دئے جانے کی وجہ سے لیبرہان کمیشن کافی عرصے سے تنازعات کا شکار رہا ہے۔ یہ رپورٹ اب وزارت داخلہ کو بھیج دی گئی ہے۔

’کارسیوکوں‘ (مذہبی رضاکاروں) نے لال کرشن اڈوانی، اما بھارتی اور بی جے پی کے دیگر رہنماؤں کی موجودگی میں بابری مسجد کو مسمار کردیا تھا۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ ایودھیا (اترپردیش) میں جس جگہ بابری مسجد واقع تھی، ہزاروں سال پہلے وہاں ان کے بھگوان رام پیدا ہوئے تھے۔ اور وہ وہاں ایک عالی شان مندر بنانا چاہتے ہیں۔

مسجد کی مسماری کے بعد بھارت کے کئی حصوں میں مذہبی فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں بڑی تعداد میں مسلمان ہلاک ہوئے تھے۔