مظاہرے، ہلاکتیں، کرفیو، ہڑتال

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
- وقت اشاعت
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شمالی حصوں میں مشتعل مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے دو نوجوانوں کی موت کے خلاف علیٰحدگی پسندوں کی کال پر منگل سے تین روز تک مکمل ہڑتال کی جارہی ہے، جبکہ مظاہروں کو روکنے کے لئے سرکاری فورسز نے بھی آمدورفت پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
تاہم سیکیورٹی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے منگل کو بھی بارہمولہ میں لوگوں نے مظاہرے کرنے کی کوشش کی۔ مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے ایک اور گیارہ سالہ نوجوان بلال بشیر شدید زخمی ہوگیا جس کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔
ہلاکتوں کے یہ تازہ واقعاتشمالی کشمیر کے بارہمولہ قصبہ میں پیش آئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ منگل کی دوپہر ایک خاتون کے ساتھ تھانہ میں پولیس حکام کی مبینہ زیادتی اور اسے نازیبا کلمات کہنے کے خلاف قصبہ کے لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے جلوس کی صورت میں تھانہ کی طرف مارچ کرنا شروع کردیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں روکنے کے لئے پہلے اشک آور گیس کے گولے داغے اور جب لوگ زیادہ مشتعل ہوگئے تو پولیس نے براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں چار نوجوان شدید زخمی ہوگئے۔
زخمیوں میں سے بعد میں بارہمولہ کے ہی دو نوجوانوں محمد سلیم آہنگر اور طارق احمد ملک نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔
گو مقامی انتظامیہ نے مجسٹریٹ کے ذریعہ فائرنگ کے اس واقعہ کی تفتیش کا حُکم دے دیا ہے، ہلاکتوں سے پوری وادی میں پیدا ہوئی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے بارہمولہ میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جبکہ دوسرے حساس قصبوں میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے، جس کی رُو سے چار سے زائد افراد کا اجتماع ممنوع ہے۔
پابندیوں کے باوجود بارہمولہ کے شہریوں نے منگل کی صبح مظاہرہ کیا اور مظاہرین پر پولیس نے فائرنگ کی جس کے دوران گیارہ سالہ بلال بشیر کے سر میں دو گولیاں پیوست ہوگئیں۔ ڈاکڑوں کا کہنا ہے کہ اس کا دماغ پوری طرح تہس نہس ہوگیا ہے اور وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
ہلاکتوں کے خلاف علیٰحدگی پسندوں کے ایک دھڑے نے تین روزہ ہڑتال اور جمعہ کے روزہ ہمہ گیر احتجاج کی کال دی ہے۔ ہڑتال کے پہلے روز آج یعنی منگل کو پوری وادی میں عام زندگی معطل رہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے شوپیان واقعہ کے خلاف ایک ماہ سے جاری احتجاجی تحریک میں مظاہرین پر پولیس ایکشن سے اب تک دو نوجوان ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس طرح پچھلے ایک ماہ سے جاری غیریقینی اور عدم استحکام کے حالات میں مجموعی طور تین نوجوان ہلاک اور کم از کم ساڑھے پانچ سو افراد جزوی یا شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔
حالات کی بہتری سے متعلق مقامی حکومت کی پالیسی کا جائزہ لینے کے لئے کانگریس ہائی کمان نے گزشتہ ہفتے کشمیر کانگریس کے سربراہ سیف الدین سوز کو وادی روانہ کیا تھا جس کے بعد بھارتی وزیرداخلہ پی چدامبرم اور فوجی سربراہ جنرل دیپک کپور نے بھی کشمیر کا دورہ کیا۔ خود وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی روس کے یکاترین برگ میں غیر وابستہ ممالک کی کانفرنس سے لوٹتے ہوئے ہوائی جہاز میں سفر کے دوران نامہ نگاروں کو یقین دلایا تھا کہ، 'شوپیان واقعہ میں ملوث مجرموں کو ضرور سزا ملے گی اور کشمیر سنبھل جائے گا۔
لیکن حالات مسلسل بگڑ رہے ہیں، جس کے لئے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے مفاد پرست عناصر کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔






















