ممتا بینرجی کا بجٹ

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
جب بھی ریلوے بجٹ کا ذکر آتا ہے تو لالو پرساد یادو کا چہرہ سامنے آ جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ پانچ برس سے نہ صرف وہ ریلوے کے وزیر رہے بلکہ انہوں نے اس مدت میں خسارے میں چلنے والے ریلوے کے محکمے کو زبردست منافع بخش محکمے میں تبدیل کر دیا۔
اب ممتا بینرجی ریلوے کی وزیر ہیں اور جمعہ کو جب انہوں نے بجٹ پیش کیا تو اس عہدے پر لالو کی کمی سبھی کو محسوس ہوئی ۔ وہ بجٹ پیش کرتے ہوئے اپنے مخصوص مزاحیہ اور طنزیہ انداز کا ساتھ نہیں چھوڑتے تھے ۔ بجٹ کے دوران ان کے دلچسپ قفروں سے ایوان اکثر قہقہہ ژارہو جا یا کرتا تھا ۔
ممتا کا بجٹ پیش کرنے کا انداز مختلف تھا اور پورے بجٹ کے دوران ماحول سنجیدہ رہا۔
ممتا نے جب بجٹ پیش کیا تو ریلوے کی شرح ترقی گھٹ چکی تھی اور اس کی آمدنی میں بھی پہلے کے مقابلے بہت کم رہ گئی۔ لیکن اس کے لیے ممتا نہیں کساد بازاری ذمے دار ہے ۔
ممتا کا بجٹ لالو کے مقابلے مختصر تھا ۔ اس میں بھی نئی ٹرینیں چلانے کی تجویزیں ہیں ۔ کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا اور بہت سی نئی سہولیات دینے کی باتیں کی گئیں ۔ لیکن اس بجٹ میں ایک خاص بات یہ تھی ممتا نے ملک کے پچاس ریلوے سٹیشنوں کو عالمی میعار کے سٹیشن بنانے کی تجویز پیش کی اس کے علاوہ ساڑھے تین سو دیگر سٹیشنون کو کو مثالی اسٹیشن بنایا جائے گا ۔ توقع کے بر عکس ممتا نے اپنی ریاست مغربی بنگال کو نئی ٹرینیں اور نئے منصوبے وغیرہ دینے میں اس طرح کا امتیاز نہیں برتا جس طرح کی جانبداری لالو اپنی ریاست بہار کے لیے کیا کرتے تھے ۔
ممتا کے بجٹ میں ایک خاص بات یہ بھی تھی اب بارہ ایسی ٹرینیں چلائی جائیں گی جو صرف اپنی منزل پر پہنچ کر رکیں گی ۔ یہ بات لالو کے ذہن مین نہیں آ سکی تھی ۔
لالو نے ریلوے کی سیکیورٹی پر توجہ مرکوز کی تھی لیکن ممتا نے ایک قدم آگے بڑھتے ہو ئے ریلوے کمانڈو بٹالین تشکیل دینے کی تجویز رکھی ہے۔
مجموعی طور پر ریلوے کا بجٹ ایک متوازن بجٹ ہے لیکن اس میں اتنی بڑی تعداد میں نئی اسکیمیں اور منصوبے نہیں ہیں جتنے لالو کے بجٹ میں ہوا کرتے تھے ۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ نئی حکومت میں یہ ممتا کا پہلا بجٹ ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















