' ڈیڑھ سو برس بعد سمجھ آئی'

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
دلی ہائی کورٹ میں ہم جنس پرستوں کی سنسی خیز کامیابی ان خبروں میں سے ایک ہے جسے شاید تصاویر کے ذریعہ زیادہ بہتر انداز میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے صفحہ اول پر ایک تصویر میں دو نوجوانوں کو بوس و کنار کرتے دیکھایا گیا ہے۔ خبر کی سرخی ہے کہ دلی ہائی کورٹ نے ہم جنس پرستوں کو ایک سو اننچاس سال پرانے قانوں سے آزاد کر دیا، رد عمل میں کہیں خوشی تو کہیں غصہ۔ اپنے اداریہ میں اخبار لکھتا ہے کہ 'ہمیں ڈیڑھ سو سال میں یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ ہمیں ہم جنس پرستوں سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔' ٹائمز آف انڈیا کہتا ہے کہ ' ہم جنس پرستوں کے لیے یہ اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے جسے ملک میں سماجی تغیر کی راہ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہوگی۔ اخبار لکھتا ہے کہ ' کون کہتا ہے کہ ہم جنس پرستی ہندوستانی ثقافت کے خلاف ہے؟ کم سے کم ہماری قدیم کتابیں تو نہیں! ایک ایسا وقت بھی تھا جب ہم جنس پرستوں کو چھپنے کی ضرورت نہیں تھی۔' انڈین ایکسپریس کی سرخی ہے ' سیکشوئلیٹی، ایکوالٹی: دلی ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ'۔ اخبار نے اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے علاوہ کوئی بھی سیاسی جماعت عدالت کے فیصلے کے حق میں نہیں بولی ہے۔ اخبار نےاپنے اداریہ میں لکھا ہےکہ کیا ایک جدید جمہوریت اپنے شہریوں پر یہ پابندی لگا سکتی ہے کہ وہ کس سے محبت کریں؟ اداریہ کا عنوان ہے ' تین سو ستتر قدم، ایک جدید جمہوریت کی طرف' لیکن اردو اخبار ہمارا سماج کا نظریہ ذرا مختلف ہے۔ دلی سے شائع ہونے والا یہ اخبار کہتا ہے کہ ' دلی ہائی کورٹ کا بدبختانہ فیصلہ، سماجی گناہ کو ملی قانونی حمایت۔ ہندی اخبار امر اجالا نے صرف ایک لفظ کی سرخی دی ہے: بونڈر ( ہنگامہ برپہ ہونا)، ہم جنس پرستی کو جائز قرار دینے سے پورے ملک میں ہلچل۔' جن ستا میں صرف ایک سیدھی سادی خبر ہے ' ہم جنس پرستی جرم نہیں، ہائی کورٹ'۔ تینوں زبانوں کے اخبارات اس انتہائی حساس موضوع پر کہاں کھڑے ہیں، یہ ان کے کوریج سے بالکل واضح ہے۔ انگریزی اخبارات نے خبر کے ہر پہلو کو باریکی سے اور نمایاں طور پر شائع کیا ہے، ہندی اور اردو اخبارات نے شاید اپنے قارئین کے احساسات کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف بنیادی خبر سے ہی کام چلایا ہے


















