ہندستان : قومی بجٹ پیر کو

منموہن سنگھ
،تصویر کا کیپشنیو پی اے کی حکومت دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد عام بجٹ پیش کرے گی
وقت اشاعت

ہندوستان کی قومی ترقی پسند محاذ کی حکومت پیر کو عام بجٹ پیش کررہی ہے۔ عام بجٹ میں جہاں عوام مہنگائی کم کرنے کی بات کر رہی ہیں وہیں صنعتکار ملک کی ترقی کےلیے نئے اور مناسب اقدامات کرنے کی طرف اشارہ دے رہے ہیں۔ قومی ترقی پسند محاذ یعنی یو پی اے کی حکومت دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلا عام بجٹ پیش کرے گی۔ حکومت کے سامنے جہاں ایک طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی اور پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ عالمی کساد بازاری کے سبب پیدا ہونے والے حالات ہیں وہیں دوسری طرف مختلف شعبے بھی عام بجٹ کے ذریعے ضروری اصلاحات کے منتظر ہیں۔

عام بجٹ سے عوام کی توقعات کچھ ملی جلی ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی پیٹرول کے داموں میں اضافہ کردیا اور مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب کوئی امید نظر نہیں آتی ہے۔

راجکماری کا کہنا تھا کہ حکومت کو گھریلو استمعال کی چیزوں کی قیمتیں کم کرنی چاہئیں۔ ’دال، آٹا، سبزی کی قیمتیں کم کرنی ہوں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بچوں کی تعلیم بہت مہنگی ہے اور حکومت کو اسے سستا کرنا ہوگا جبکہ سکول کی فیس کم کرنی ہوگی‘۔

دلی میں بزنس مین ڈی کے ڈھینگڑا کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اس بجٹ سے زیادہ امید نہیں لگانی چاہیے کہ کیونکہ سرکار کانگریس کی ہے اور ان کی پالیسیوں میں گزشتہ بجٹ سے زیادہ تبدیلی نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں کرپشن سب سے بڑی پریشانی ہے اور اگر حکومت سبھی سیکٹر جیسے بجلی، پانی میں کرپشن پر کنٹرول کرلے تو عام آدمی کی پریشانی کم ہوجائے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے اس قسم کی خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ اس مرتبہ بجٹ میں ٹیکس بچانے کے زیادہ مواقع دیے جائيں گے اور سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کی امیدوں کا پورا پورا خیال رکھا جائے گا۔

سرکردہ صنعتکار راہل بجاج عام بجٹ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بجٹ ’پرو انویسٹمنٹ‘ ہونا چاہیے۔ صنعت کاروں کی سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزائی ہو اور گھریلو صنعت کو فروغ ملے تاکہ پیداوار بڑھے اور انہیں لگے کہ ان کی اشیا کی مانگ زیادہ ہے‘۔ بجٹ سے قبل پیش کیے گئے اقتصادی جائزے میں بتایا گیا تھا کہ شرح ترقی سات سے ساڑھے فیصد کے درمیان رہے گی جبکہ جائزے ميں دفاع اور بیما کے شعبہ میں بیرونی سرمایہ کاری 49 فیصد کرنے کی صلاح دی گئی ہے وہیں سست رفتار معیشت میں تیزی لانے کے لیے امدادی پیکج اورٹیکسوں میں رعایت دینے کی صلاح دی گئی ہے۔