’مکان اچھا ہے پر دوست بچھڑگئے‘

آسکر انعام یافتہ فلم سلم ڈاگ ملینیئر کے چائیلڈ اداکار اظہرالدین اسماعیل جھگی سے نئے مکان میں منتقل ہونے پر خوش ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ دوستوں کے بچھڑنے کا انہیں دکھ بھی ہے۔
نو برس کے اظہر اپنے پورے خاندان کے ساتھ جمعہ کو ممبئی کے سانتا کروز علاقے میں نئے مکان میں منتقل ہوئے ہیں۔
اظہراسماعیل جنہوں نے فلم میں سلیم کے بچپن کا اہم رول کیا ہے کہتے ہیں کہ ’مکان بہت اچھا ہے، لیکن مجھے باندرہ کے اپنے پرانے دوستوں کی یاد آئیگی۔ ہو سکتا ہے کہ میں ان سے ملنے جایا کروں۔‘
اظہر کی ماں کا کہنا ہے کہ ’ہم نے روڈ پر کئی برس گزارے ہیں۔ ہم نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا کہ ہمارے سر پہ بھی چھت ہوگی۔‘
اظہر کو یہ مکان سلم ڈاگ ملینیئر کے پروڈیوسروں کے بنائے گئے ٹرسٹ ’جے ہو‘ نےدلوایا ہے۔ ٹرسٹ کے ایک ترجمان کے مطابق یہ مکان انہوں نے بیس لاکھ پچاس ہزار روپے میں خریدا ہے۔ مکان فی الحال ٹرسٹ کے نام پر ہی ہے اور اٹھارہ سال کی عمر ہونے کے بعد مکان اظہر کے نام پر کر دیا جائے گا۔
فلم سلم ڈاگ ملینیئر کو آٹھ آسکر ایوارڈ ملے تھے۔ فلم ممبئی کی کچی بستیوں میں رہنے والے بچوں کی زندگی کے اردگرد گھومتی ہے جس میں اظہر نے فلم کے ہیرو جمال ملک کے بڑے بھائی سلیم کے بچپن کا کردار نبھایا تھا۔ اسی فلم میں ان کے ساتھ روبینہ قریشی نے بھی فلم کی ہیروئن لتیکا کے بچن کا رول کیا تھا۔
دونوں بچے ممبئی کی کچی بستی غریب نگر میں رہتے تھے۔ مقامی میونسپل انتظامیہ نے جب دونوں کے گھروں کو منہدم کر دیا تب فلم کے پروڈیوسروں کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعہ کے بعد برطانوی ہدایت کار ڈینی بوئیل خصوصی طور پر ممبئی آئے تھے اور انہوں نے دونوں بچوں کو مکان دلانے کا وعدہ کیا تھا۔
اظہر کو مکان مل چکا ہے لیکن روبینہ ابھی باندرہ کے اسی غریب نگر کچی بستی میں اپنے والد کے ساتھ رہ رہی ہے۔ روبینہ کے والد رفیق قریشی کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی گھر نہیں دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اظہر اور روبینہ کے ہمراہ اس فلم میں اسی بستی کے کئی اور بچوں نے کام کیا تھا لیکن ان کا رول اتنا اہم نہیں تھا اور نہ ہی ان کی تقدیر۔ ممبئی جس کی آبادی ایک کروڑ پچاس لاکھ کے قریب ہے ، اس کا ساٹھ فیصد حصہ آج بھی کچی بستیوں میں رہتی ہے۔






















