ہندوستان: دو حادثے، کم از کم 40 ہلاک

ہندوستان کے جنوبی صوبے تمل ناڈو میں پٹاخوں کے ایک کارخانے میں آگ لگنے سے کم از کم سولہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ادھر احمدآباد میں زہریلی شراب پینے سے کم ازکم 24 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پٹاخوں کا کارخانہ مدورئی ضلع کے وڈاکم پٹم گاؤں میں واقعہ تھا۔حادثے میں پٹاخو کا کارخانہ پوری طرح تباہ ہوگیا ہے اور عمارت کی چھت گر گئی ہے جس کے سبب کاریگر عمارت کے اندر پھنس کر ہلاک ہوگئے ہیں۔
آگ بجھانے والے دستے جاعہ وقوع سے جلی ہوئی لاشیں نکال رہے ہيں اور زخمیوں کو اسپتال پنہچانے کا کام بھی جاری ہے۔
مدورئی کے اعلی پولیس اہلکار ایم منوہر نے خبررساں ایجنسی روئٹر کو بتایا ' ہم نے کارخانے میں لگی آگ بجھا دی ہے۔ دھماکے کے سبب کارخانے کے چھت گر گئی ہے جس کی وجہہ سے لوگ اندر پھنس کر ہلاک ہوگئے ہیں۔ کارخانے سے لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے اور واقعہ کی تفتیش کی جارہی ہے'۔
گزشتہ اکتوبر میں راجستھان میں پٹاخوں کی غیر قانونی کارخانے میں آگ لگنے سے 26 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور بہار میں 2005 میں اسی طرح کے حادثے میں 35 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بھارت میں پٹاخوں کے کارخانوں میں اس طرح کے حادثات عام ہیں۔
زہریلی شراب پینے سے موت
ادھر خبر رساں ایجنسی اسوسیئٹیڈ پریس کے مطابق احمدآباد میں زہریلی شراب پینے سے کم ازکم 24 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
احمدآباد پولیس کمشنر ایس کے سائکا کے مطابق چھ افراد نے اسپتال میں دم توڑا ہے جبکہ 10 افراد اپنے گھروں اور آس پاس کی گلیوں ميں مر گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہندوستان میں گھریلو شراب پینے سے اموات ہونا عام بات ہے۔ غربت کی وجہہ سے بہت سے افراد برانڈاڈ شراب نہیں خرید پاتے ہیں اس لیے سستی شراب جس میں کبھی کبھی زہریلے مادے کی مقدار زیادہ ہوتی ہے پینے سے اموات ہوجاتی ہے۔






















