کشمیر: پراسرار ہلاکت کے بعد تشدد

کشمیر میں احتجاج (فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشناسرار کے لواحقین اور مقامی آبادی نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرار کو سرکاری فورسز نے گرفتاری کے قتل کردیا
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں بدھ کی صبح تشدد بھڑک اُٹھا اور مشتعل مظاہرین نے کئی سرکاری گاڑیوں کو نذرآتش کردیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آيا جب پچھلے پانچ روز سے لاپتہ نوجوان طالب علم اسرار احمد کی لاش برآمد ہوئی۔ اسرار احمد معروف علیٰحدگی پسند رہنما محمد یٰسین ملک کی آبائی بستی مائیسمہ کے رہنے والے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے والدین نے یکم جولائی کو ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی جس کے بعد سے انہیں تلاش کیا جارہا تھا اور بدھ کو ان کی لاش برآمد ہوئی۔

اسرار کے قتل کی خبر عام ہوتے ہی ریاست کے تجارتی مرکز لالچوک اور گرد و نواح میں مشتعل نوجوانوں کی ٹولیوں نے پولیس اور دیگر سرکاری گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔

پولیس کی جوابی کارروائی میں تیرہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پرتشدد مظاہروں کے بعد شہر میں ہڑتال ہوگئی اور لالچکو ک میں عام لوگوں اور گاڑیوں کی آمد و رفت مسدود ہوگئی ہے ۔

شہر میں پولیس کے سربراہ افہاد المجتبیٰ نے بی بی سی کو بتایا ’لاش کا پوسٹ مارٹم ہورہا ہے، لیکن ابتدائی معائنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قتل کیا گیا ہے۔ اسرار کی لاش کے چہرے پر ایڈہیسِو ٹیپ چپکایا گیا تھا اور ان کے ہاتھ پیچھے کی طرف باندھے ہوئے تھے۔ہم تفتیش کررہے ہیں۔‘

تاہم اسرار کے لواحقین اور مقامی آبادی نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرار کو سرکاری فورسز نے گرفتار کر کے قتل کردیا۔ پولیس نے مقتول کے گھر اور ارد گرد کے مکانوں کا محاصرہ کر لیا ہے۔

واضح رہے اسرار احمد شہر کے اسلامیہ کالج میں زیرتعلیم تھے۔ ان کے قتل کی خبر پھیلتے ہی اسلامیہ کالج میں درس و تدریس کا عمل معطل ہوگیا اور سینکڑوں طالب علموں نے ایک احتجاجی جلوس نکالا، جو لالچوک کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ اس دوران مائیسمہ میں مقامی لوگوں اور پولیس کے درمیان تصادم جاری ہے۔

واضح رہے اُنیتس جون کو جنوبی ضلع شوپیان میں جنسی زیادتی اور دوہرے قتل معاملے میں حکومت کے نامزد عدالتی کمیشن نے ابھی حتمی رپورٹ پیش نہیں کی ہے اور ضلع میں پچھلے ڈیڑھ ماہ سے مسلسل احتجاج اور ہڑتال جاری ہے۔ مائسمہ واقعہ سے حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔