مہاراشٹر : ڈاکٹروں کی ہڑتال، مریض پریشان

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
- وقت اشاعت
مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریذیڈینٹس ڈاکٹر ( مارد) کے تقریبا ساڑھے چار ہزار ڈاکٹر گزشتہ چار دنوں سے اپنے کئی مطالبات کو منوانے کے لیے غیر معینہ مدت ہڑتال پر ہیں جن کی وجہ سے پورے مہاراشٹر کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اب مارد کے ڈاکٹروں کے ساتھ ڈینٹل کالج اور آیورویدک کالج کے طلباء بھی اس ہڑتال میں شامل ہو گئے ہیں۔
گزشتہ روز سائن ہسپتال میں ایک مریضہ کی موت ہو گئی اور ان کے شوہر نے اپنی بیوی کُسم سنگھ کی موت کے لیے ڈاکٹروں کی ہڑتال کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ کرشن لال کا کہنا تھا کہ ان کی بیوی کو دیکھنے کے لیے کوئی ڈاکٹر ہسپتال میں موجود نہیں تھا۔
اوشیوارہ میٹرنیٹی ہوم نے چوبیس سالہ حاملہ نکہت شیخ کو گھر بھیج دیا کیونکہ وہاں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔ سینٹ جارج ہسپتال کے ایک اینٹرن کے مطابق ہسپتال میں صرف ایمریجنسی وارڈ میں مریضوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد جے جے ہسپتال بھیجا رہا ہے کیونکہ جے جے میں پونے سے سینئر ڈاکٹروں کی ٹیم بلائی گئی ہے۔
ہڑتال پر گئے ڈاکٹروں نے سائن ، کے ای ایم ہسپتالوں کے باہر اپنے طور پر مریضوں کو دیکھنے کے لیے کیمپ شروع کیے ہیں۔ ممبئی کے علاوہ ناگپور، شولاپور، اورنگ آباد میں ان کیمپ کے باوجود مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
مارد اور حکومت کے درمیان ابھی تک کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ میڈیکل ایجوکیشن سکریٹری بھوشن گگرانی کے مطابق جب تک ڈاکٹر ہڑتال ختم نہیں کریں گے حکومت ان سے گفتگو کے لیے پہل نہیں کرے گی۔ گگرانی کے مطابق وہ ڈاکٹروں کو سولہ سے اٹھارہ ہزار روپے ماہانہ دینے کے لیے تیار ہیں لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایک سو پچاس فیصد کا اضافہ چاہئے جو ناممکن ہے۔
ایم ڈی کی پڑھائی کرنے والے ڈاکٹر دیپک کے مطابق مرکزی حکومت کے ماتحت کام کرنے والے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو ماہانہ پینتالیس ہزار روپے دیے جاتے ہیں جبکہ مہاراشٹر میں ڈاکٹروں کو چوبیس گھنٹے ڈیوٹی کے بعد محض پندرہ ہرزار روپے ملتے ہیں۔ ان کے مطالبات کافی عرصہ سے التواء میں تھے اور حکومت وعدے کرنے کے باوجود انہیں مکمل کرنے سے آناکانی کر رہی تھی اس لیے انہیں مجبورا ہڑتال کرنی پڑی۔
مارد کے جنرل سکریٹری انیل دودبھاتے نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا مطالبہ صرف ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے کام کرنے کے دوران انہیں صحیح سیکوریٹی ملے۔ جہاں وہ کام کرتے ہیں وہاں صاف صفائی ہو کیونکہ اکثر ڈاکٹروں کی ان ہائی جینیک ماحول میں کام کرنے کی وجہ سےان کی قوت مدافعت کمزور ہوتی جارہی ہے اور ڈاکٹروں میں تپ دق کے کئی کیس سامنے آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری ڈاکٹروں کی ہڑتال کا زیادہ اثر غریب اور نچلے متوسط طبقہ پر پڑتا ہے کیونکہ وہ مہنگے پرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج نہیں کر اسکتے۔






















