زہریلی شراب، اب تک 107 ہلاک

مریض
،تصویر کا کیپشنفی الحال اس معاملے کی تفتیش احمداباد کی کرائم برانچ کر رہی ہے۔
وقت اشاعت

ریاست گجرات کے احمدآباد شہر میں زہریلی شراب پینے کے سبب مرنے والوں کی تعداد 107 ہو گئی ہے۔

مقامی صحافی مہیش لانگا کے مطابق غیر قانونی طریقے سے بنائی گئی زہریلی شراب پینے کے بعد 189 افراد ابھی بھی ہسپتال میں داخل ہیں جن میں سے بعض کی حالت کافی تشویش ناک ہے۔

ریاست کے وزیر اعلی نریندر مودی نے قصورواروں کو سخت سزا دلاوانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا ہے ' ہم قصورواروں کو کسی بھی حالت میں نہيں چھوڑيں گے۔ ہم اس واقعہ کے لیے سنجیدہ ہیں اور قصورواروں کو سخت سزا دلانے کی پوری کوشش کريں گے۔'

اسی دوران یوتھ کانگریس اور نیشنل سٹیوڈنٹ یونین آف انڈیا نے احمداباد میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس کا اثر صاف صاف نظر آ رہا ہے۔

شہر کے تقریباً سبھی سکول اور کالج بند ہیں۔

پولیس نے غیر قانونی شراب بنانے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے اور اب تک سو لوگوں کو حراست ميں بھی لیا جا چکا ہے۔

حکومت نے پورے واقعہ کی وجوہات کا پتا لگانے کے لیے ریٹائرڈ جج کمل مہتا کی سربراہی میں ایک تفتیشی کمشن تشکیل دیا ہے۔ اس کمشن میں ان کے علاوہ دیگر چار افراد ہوں گے جن میں گجرات پولیس کے سابق ڈی جی پی جی سی رائے گر بھی شامل ہوں گے۔

تفتیشی کمیشن سے تیس نومبر سے پہلے اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

فی الحال اس معاملے کی تفتیش احمدآباد کی کرائم برانچ کر رہی ہے۔