کشمیر میں خراب حالات کیوں؟

پولیس کا اہلکار
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں جنسی زیادتی کے دو واقعات کے بعد شدید بے چینی پائی جاتی ہے
    • مصنف, نعیمہ احمد محجور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام لندن
  • وقت اشاعت

کشمیر میں خراب حالات کیوں؟

وادی میں حالات ابتر ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

دو دہائیوں سے وادی میں مسلح تحریک کے دوران پُر اسرارحالات میں جنسی زیادتیوں اور ہلاکتوں کےدرجنوں واقعات رونما ہوئے ہیں مگر اُس وقت اتنا شدیدعوامی ردعمل اس لئے نہیں ہوتا کہ ایسے بیشتر واقعات بندوق برداروں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد رونما ہوتے تھے ۔ نیم فوجی دستے اکثر معرکوں کے بعد اُن لوگوں کو ہدف بناتے رہتے ہیں جن پر بندوق برداروں کو پناہ دینے کا الزام عائد ہوتا یا ان کو تحریک آزادی کا حمایتی مان کر مشکوک تصور کیا جاتا۔

گوکہ ایسے واقعات کے خلاف بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے آواز اٹھائی مگرحکومتی ادارے ایسا تاثر قائم کرنے میں کوشاں رہے کہ انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات مسلح تحریک کی وجہ سے ہورہے ہیں ۔

اِس وقت جمہوری حکومت ہے اور مسلح تحریک بھی کمزور ہوچکی ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتخابات میں حصہ لے کر اگر آبادی والے علاقوں سے نیم فوجی دستوں کو ہٹانے کا وعدہ کیا گیا تو اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا اور سول حکومت اتنی کمزور کیوں ہے کہ وہ سیکورٹی کے اداروں کو قابو میں نہیں کر پاتی۔

دیہاتوں سے نیم فوجی دستوں کی زیادتیوں کی شکایات مسلسل آرہی ہیں اور مقامی حکومت ابھی تک ان کو روکنے میں ناکام رہی ہے جس پر عوام میں شدید غصہ ہے۔

جب سے مرکزی وزیر داخلہ پی چدامبرم نے سرینگر میں نیم فوجی دستوں کو دئے جانے والی خصوصی اختیارات سے متعلق ایکٹ کو منسوخ اور آبادی والے علاقوں سے ان کو نکالنے کا ارادہ ظاہر کیا بعض مبصرین کہتے ہیں کہ سیکورٹی فورسز میں بعض عناصر اس سے خوش نہیں،

ماضی میں کئی مرتبہ نیم فوجی دستوں پر الزام عائد ہواہے کہ انہوں نے حکومت نواز شدت پسندوں کی مدد سے بعض جنگلوں کا صفایا کرکے پیسہ کمایا، بلکہ آزادی نواز لیڈروں اور بھارت نواز رہنماوں نے اس الزام کی روشنی میں نیم فوجی دستوں کے زیر کنٹرول ہزاروں ایکڑ زمین کو ان سےواپس حاصل کرنے کی مہم بھی شروع کی تھی ۔

کشمیر کے بعض سیاسی حلقوں میں یہ تاثربھی ہے کہ مقامی پولیس نیم فوجی دستوں کے انخلا سے مطمئن نہیں کیونکہ وہ آزادی کے جلوسوں کو روکنے یا تحریک کے نتیجے میں پیدا ہونے والی امن وعامہ کی صورت حال سے نمٹنے کی ذمہ داری سے خود کو مبّرا رکھنا چاہتی ہے۔

نیشنل کانفرنس کی حکومت کو عوام کا بڑا حلقہ مشکوک بھی سمجھتا ہے حالانکہ پارٹی کو انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں بھی حاصل ہوتی رہی ہیں۔ سن چھیانوے کے بعد مقامی پولیس کی ٹاسک فورس قائم کرنے اور پھر ہندو تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ا تحاد قائم کرنے پر گوکہ انتخابات کے دوران این سی نے لوگوں سے معافی بھی مانگی مگر اس سے اکثر لوگوں میں پارٹی کے خلاف غصہ اب بھی قائم ہے۔

نیشنل کانفرنس کو کٹر بھارت نواز پارٹی سمجھا جاتا ہے جس نے بھارت سے الحاق سے لے کر پاکستان کے خلاف شدید طرح کے بیانات جاری کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی لوگوں کا ماننا ہے کہ بارہااس سے عوامی جذبات کو کئی مرتبہ ابھارا گیا۔

پھر یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کشمیر میں خفیہ اداروں کا جو جال بچھا ہوا ہے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیر کا سیاسی نقشہ ہو یا سیکورٹی کا نظم ونسق خفیہ اداراروں کا ہر بلیو پرنٹ تیار کرنے میں اہم کردار سمجھا جاتا ہے

مگر ان سب باتوں کے باوجود جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ہر واقعہ آزادی کی تحریک کو دوبارہ اُبھارنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے جس کے بارے میں تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ جذبہ آزادی ابھی تک شاید مرا نہیں۔