امید ہے پاکستان سنجیدگی دکھائے گا: بھارت

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کے معاملے میں سنجیدگی دکھائے گا۔ وزیر اعظم نے جی ایٹ کے اجلاس سے واپسی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جو وعدہ کیا گیا تھا اس میں بظاہر پیشرفت ہو رہی ہے۔
انہوں نے رحمان ملک کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں پاکستان کی طرف سے ممبئی حملوں کی تفتیش مکمل کرنے کی بات کی گئی ہے، کہا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف ضرور کارروائی کرے گا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے سنیچر کی شام کہا تھا کہ ممبئی حملوں کے مقدمے کی تحقیقات پاکستان نے چھہتر دنوں میں مکمل کر لی ہیں اور پانچ ملزمان کے خلاف آئندہ ہفتے چالان پیش کیا جائے گا۔
دلی میں بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا کہ منموہن سنگھ کے لہجے سے کوئی ایسی بات نہیں لگ رہی تھی جس سے دونوں ممالک میں کشیدگی کا تاثر ملے جیسا کہ کچھ عرصے سے لگ رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے سنیچر کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھا جائے اور اس طرح کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔
رحمان ملک کی طرف سے سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کے مقدمے میں تفتیش کے بارے میں ایک بیان کے بارے میں نامہ نگار نے بتایا کہ اس طرح کا جب کوئی باضابطہ بیان سامنےآتا ہے تو بھارت بھی رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا موجودہ ماحول پر اس لیے زیادہ اثر نہیں پڑے گا کیونکہ دونوں ممالک پر دباؤ ہے اور یہ دباؤ امریکہ کی طرف سے بھی ہے کہ بات چیت کی جائے۔
نامہ نگار نے کہا کہ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن بھارت آنے والی ہیں اور بھارت کے لیے یہ سگنل دینا ضروری ہے کہ وہ ضد پر نہیں اڑا ہوا اور وہ بات چیت کا حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ذرائع ابلاغ میں بھی اس طرح کے تبصرے آ رہے ہیں کہ بھارت کی کوشش ہو گی کہ بات چیت کے راستے کھلے رکھے جائیں۔


















