تحقیقاتی کمیشن، رشتہ داروں پر شک

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
- وقت اشاعت
بھارتی زیرانتظام کشمیر میں چالیس روز سے تناؤ کا باعث بنے دوہرے ریپ و قتل کے معاملے کی تفتیش کر رہے جسٹس جان کمیشن کی تحققاتی رپورٹ نے مقتول خواتین کے رشتہ داروں پر شک کی انگلی اُٹھائی ہے جس سے عوامی حلقوں میں سنسنی پھیل گئی ہے۔
ایک ماہ کی چھان بین کے بعد تیار کی گئی ایک سو ستّر صفحات پر مشتمل رپورٹ میں پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم سے کہا گیا ہے کہ وہ اس واردات میں مقتول نیلوفر کے شوہر شکیل آہنگر اور بھائی سید زیرک شاہ کے، جو خود ایک پولیس اہلکار ہے، ملوث ہونے کے امکانات کا جائزہ لیں ۔
رپورٹ میں نیلوفر کی شادی کو بھی ایک تنازعہ کا نتیجہ بتایا گیا ہے اور اشارہ دیا گیا ہے کہ واردات سے قبل کئی سال تک نیلوفر کے مائیکے، یعنی سید خاندان، اور اس کے سسرال والے یعنی آہنگر خاندان کے درمیان کشیدگی پائی جاتی رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں کنبوں کے خاندانی نسب میں فرق کی وجہ سے یہ شادی نہیں ہورہی تھی اور نیلوفر گھروالوں کی مرضی کے خلاف شکیل کے ساتھ بھاگ گئی اور دونوں کئی ماہ تک صوبے سے باہر رہنے کے بعد بون گام میں شکیل کے گھر میں رہنے لگے۔
رپورٹ کے مطابق، نیلوفر کے بھائی سید زیرک شاہ نے اس اقدام کے لیے آہنگر فیملی کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی تھی۔
اسی نے واردات کے بعد لوگوں کو احتجاج کے لیے اُکسایا ، پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کو پیٹا، اور ضلع میں پرتشدد مہم چھیڑ دی۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ شکیل کی مزید تفتیش کرکے یہ پتہ لگایا جائے کہ اس کے پاس ذرائع آمدن سے کہیں زیادہ جائداد اور اثاثے کہاں سے آئے۔
رپورٹ میں شکیل کو ’ناٹ اے گُڈ کیریکٹر پرسن‘ قرار دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ مجموعی طور ایک پست اخلاق شخص ہے۔ اس پر شکیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقامی لوگوں کی مدد سے کمیشن کے خلاف عدالت میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے بائیس سالہ نیلوفر اپنی سترہ سالہ نند آسیہ کے ہمراہ اُنتیس مئی کی شام باغ میں گئیں اور دوسرے روز دونوں کی لاشیں قریبی ندی سے برآمد ہوئیں۔
مقامی لوگوں اور علیٰحدگی پسند گروپوں نے سرکاری فورسز پر دونوں کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کرنے اور بعد میں انہیں قتل کرنے کا الزم عائد کیا اور اس کیس کی آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کیا۔
شوپیان کے لوگوں نے اس رپورٹ کو معاملہ دبانے کی ’سازش‘ قرار دیتے بیالیس روز سے جاری ہڑتال اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اتوار کو ضلع شوپیان میں ہی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقامی مجلس مشاورت کے نمائندوں نے بتایا ’شکیل اور نیلوفر کے بارے میں ہتک آمیز اور سراسر غلط معلومات کی تشہیر کی گئی ہے۔
’کمیشن کہتا ہے کہ شادی دو ہزار سات میں ہوئی جبکہ شادی دو ہزار چھ میں ہوئی۔کمیشن کہتا ہے شکیل نے دوکان شادی کے بعد لے لی جبکہ دوکان دو ہزار تین سے چالو ہے اور بھی دوسری باتیں ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیں۔ کمیشن سے ہمیں اُمیدیں وابستہ تھیں، لیکن یہ ایک دھوکہ ہے، کردار کُشی ہے اور معاملہ دبانے کی سازش ہے۔‘
دریں اثنا اس رپورٹ میں اصل مجرموں کی نشاندہی کرنے کی بجائے دو کنبوں کی کہانی مرتب کرنے پر جموں کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم نے اسے ’کچن رپورٹ‘ سے تعبیر کرتے ہوئے اسے انصاف کے ضابطوں کی بے حُرمتی بتایا۔ حزب اختلاف پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی اس رپورٹ کو کشمیریوں کی بے عزتی قرار دیا۔
مجرموں کی نشاندہی نہ کر پانے سے متعلق کمیشن نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ واردات سے متعلق جو بنیادی شواہد اور آثار تھے انہیں ضائع کیا گیا اور اس میں پولیس اور بعض ڈاکٹروں کو قصور ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔






















