نکسلیوں کے خلاف مہم

پولیس کارروائی
،تصویر کا کیپشنحال ہی میں لال گڑھ میں ماؤنواز باغیوں نے علاقے پر قبضہ کرنے کا دعوی کیا تھا
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

چھتیس گڑھ میں ماؤنواز باغیوں کے تازہ ترین حملے کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے فیصلہ کن کارروائی کا اعلان 'سیاسی بیان بازی سے زیادہ کچھ نہیں اور حالات پر قابو پانے میں دس پندرہ سال لگ سکتے ہیں۔' ایک اعلی پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ نکسلی یا ماؤنواز باغیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی بات کر رہے ہیں، وہ زمینی حقائق سے یا تو پوری طرح واقف نہیں ہیں یا اس حملے کے بعد 'سیاسی بیان بازی' کا سہارا لے رہے ہیں۔ ' ماؤنواز باغیوں کی جڑیں بہت گہری ہوچکی ہیں اور اگر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سماجی اور اقتصادی ترقی کا راستہ بھی اپنایا جائے، تب بھی حالات پر قابو پانے میں دس پندرہ سال لگ جائیں گے۔' نکسلوادیوں کے حملے میں اس سال اب تک دو سو تیس پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں اور ان کا اثرو رسوخ ملک کے چھ سو میں سے ایک سو پچاس سے زیادہ اضلاع میں پھیل چکا ہے۔ اسی پس منظر میں وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ماؤ نواز باغیوں کو ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا داخلی خطرہ قرار دیا تھا۔ ملک بھر میں ماؤ نواز باغیوں کے خلاف کارروائی میں نیم فوجی دستوں کے سینتیس ہزار سے زیادہ جوان حصہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق قبائلی آبادیوں میں باغیوں کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ وہ احساس محرومی کا شکار ہیں جس کا باغی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مغربی بنگال کے لال گڑھ کی طرح ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں سکیورٹی فورسز اور حکومتی اہلکار داخل بھی نہیں ہو سکتے۔ باغیوں کا سب سے زیادہ اثر جھاڑ کھنڈ، چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش، اڑیسہ، بہار اور مغربی بنگال میں ہے۔ لیکن پولیس افسر کے مطابق ترقیاتی کام بدعنوانی اور عملی دشواریوں کی وجہ سے نہیں ہوپاتے۔ 'جب کوئی دہشت گرد گروپ جدید ترین اسلحہ سے لیس ہو، اور اس کے پاس بارودی سرنگوں سے دھماکے کرنے کی صلاحیت ہو، تو آپ اس علاقے میں کتنے ترقیاتی کام کر پائیں گے؟' 'ہمیں لمبی جدو جہد کے لیے تیار رہنا پڑے گا۔ حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ تشدد کو بتدریج کم کیا جائے۔ اور ساتھ ہی یہ امید رکھی جائے کہ سماجی اور اقتصادی ترقی اور مارکٹ فورسز کے عمل میں آنے سے حالات میں سدھار آئے گا۔ آر پار کی لڑائی، یہ سب کہنےکی باتیں ہیں۔'

قبائیلی
،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق قبائلی آبادیوں میں باغیوں کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ وہ احساس محرومی کا شکار ہیں جس کا باغی فائدہ اٹھاتے ہیں

انہوں نے دیگر ماہرین کی اس رائے سے اتفاق کیا کہ سلوا جدوم جیسے حکومت نواز قبائلی گروپوں کو ماؤ نوازوں کے خلاف استعمال کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'آندھرا ماڈل' سے سبق سیکھا جانا چاہیے جہاں حکومت نے کثیر جہتی حکمت عملی اخیتار کرتے ہوئے کوشش کی کہ اس کی فورسز کو جو جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا، وہ کم ہوتا جائے۔ اس کے لیے سکیورٹی فورسز کو جدید اسلحہ اور تربیت فراہم کرکے مضبوط کیا گیا اور ساتھ ہی انٹیلی جنس کے ذریعہ معلومات حاصل کرکے باغیوں کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ اور اسی دوران بنیادی ڈھانچہ بہتر بنانے کے لیے سکیورٹی فورسز کا سہارا لیا گیا جس سے حملے اب کافی کم ہوگئے ہیں۔' لیکن نکسلوادیوں کے غلبے والی تمام ریاستوں میں بنیادی ڈھانچے کی حالت بہت خراب ہے۔ 'ابھی کچھ دن پہلے ہمارے یہاں بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا۔ پولیس پر بہت تنقید ہوئی کہ وہ راستہ کھلا نہیں رکھ پائی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سیکڑوں میل جنگل میں آپ پیدل کہاں تک جائیں گے۔ کہیں بھی آپ گاڑی میں جائیے تو دھماکہ ہوجاتا ہے۔' وزیر داخلہ پی چدمبرم نے اگست میں متاثرہ ریاستوں کا ایک اجلاس طلب کیا ہے جس میں نئی حکمت عملیوں پر غور کیا جائے گا۔ لیکن اطلاعات کے مطابق ماؤ نواز باغی بھی اپنے حملے تیز کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ حکومت نئے بجٹ میں نکسلوادیوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پانچ سو کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کو اس پیسے کی ضرورت تو ہے لیکن ماہرین عرصے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس مسئلےکا صرف فوجی حل ممکن نہیں ہے، ان عوامل پر بھی توجہ دینی ہوگی جن سے باغیوں کی طاقت بڑھتی ہے۔