بہار کےگاؤں سورج گرہن دیکھنے کی تیاریاں

ہندوستان کی ریاست بہار میں ایک چھوٹا سے گاؤں ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ تارے گانا نامی اس گاؤں میں 22 جولائی کو ہونے والے سورج گرہن کو مکمل طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
پٹنہ سے 35 کلومیٹر دور واقع اس گاؤں میں پوری دنیا سے تقریبا بیس ہزار خلائی ماہرین اور سائسندان سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے جمع ہونے والے ہیں۔
خلائی سائنسداں نے اس گاؤں کو سورج گرہن کا مرکز بتایا ہے۔
اچانک سرخیوں میں آئے تارے گانا گاؤں کے لوگ پرجوش ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندی زبان میں تارے گانا کا مطلب تاروں کو گننا ہوتا ہے۔
تارے گانا کے ایک سائنس ٹیچر اپنے طلباء کو سورج گرہن کے بارے میں جانکاری دینے میں مصروف ہیں اور انہیں یہ بھی جانکاری فراہم کررہے ہیں کہ اسے کیسے محفوظ طریقے سے دیکھا جاسکتا ہے۔
وہیں سینٹ میری سکول کے طلباء کو یہ بتایا جارہا ہے کہ سورج کی تیز روشنی کو صرف سولر ٹیلی سکوپ یہ سولر چشمے کی مدد سے ہی دیکھنا چاہیے۔
ادھر بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا ہے کہ وہ بھی گرہن کو دیکھنے کے لیے تارے گانا گاؤں جائیں گے :' میں نے اپنے اہلکاروں کو پہلے سے ہی یہ ہدایات جاری کردی ہیں کہ تارے گانا میں آنے والے ناظرین کے لیے تمام انتظامات کردیئے جائیں'۔
حکام نے تارے گانا میں تین سے چار ایسے مقامات منتخب کیے ہیں جہاں سے سورج گرہن کو دیکھا جا سکے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیاحوں کی آمد سے پہلے گاؤں کی سڑکوں کی مرمت کی جارہی ہے، نالیوں کی صفائی اور بجلی کے تاروں کو بدلا جارہا ہے۔ وہیں پٹنہ کے بیشتر ہوٹلوں میں پہلے سے بکنگ شروع ہوگئی ہے۔
ناسا کے جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تارے گانا میں سورج گرہن تین منٹ اور 38 سکنڈ تک نظر آئے گا حالانکہ بحرالکاہل میں اسے چھ منٹ اور 38 سکنڈ تک دیکھا جاسکتا ہے۔
ہندوستان میں سورج گرہن سورج کے طلوع ہوتے ہی دیکھا جاسکتا ہے اور اس کے لیے گجرات کا شہر سورت اور بہار کا پٹنہ سب سے بہتر مقامات ہیں۔
بعض ٹور آپریٹرز نے اس موقع پر سیاحوں کے لیے ایسے ہوائی سفر کا انتظام کیا ہے جس میں سیاحوں کو جہاز سے سورج گرہن دیکھایا جایا جائے گا۔






















