شوپیان ریپ معاملہ، 4 پولیس افسرگرفتار

کشمیر
،تصویر کا کیپشنوادی کے تمام اضلاع میں معمول کی زندگی بحال ہوگئی
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں دو خواتین کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے سے متعلق تاخیر اور شواہد ضائع کرنے کے جرم میں حکومت نے ایک سپرینٹنڈنٹ آف پولیس سمیت چار پولیس افسروں کو گرفتار کیا ہے۔گرفتاری کے احکامات معاملہ کی شنوائی کے دوران صوبے کے چیف جسٹس بیرین گوش نے صادر کیے۔

چاروں پولیس افسر اُنتیس مئی کی رات ہونے والی اس واردات کے وقت شوپیان میں ہی تعینات تھے۔

بدھ کو عدالت عالیہ میں کیس کی شنوائی کے دوران جسٹس گوش نے شوپیان کے لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’لوگوں کے پرامن احتجاج سے ہی کیس کی تفتیش میں مدد ملی۔ آپ لوگوں کے ساتھ پوری قوم ہے، ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ لیکن ہم چاہتے ہیں زندگی بحال ہوجائے اور ہم اس کیس کی تہہ تک جائیں گے‘۔

اس عدالتی حکم نامہ اور اس پر حکومت کے فوری عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے شوپیان کی مجلس مشاورت نے جو احتجاجی تحریک کی سرپرستی کررہی تھی، سینتالیس روزہ ہڑتال ختم کردی۔

مجلس کے سیکریٹری محمد شفیع خان نے بی بی سی کوبتایا کہ ’عدالت کی مداخلت انصاف حاصل کرنے میں کافی مددگار ثابت ہوگی۔ اب لگتا ہے کہ کچھ ہورہا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’ہم نے معمول کا کاروبار شروع کیا ہے، لیکن ہماری ایک گزارش یہ ہے کہ پولیس نے احتجاجی مہم کے دوران جن نوجوانوں کی فہرست مرتب کی ہے انہیں گرفتار نہ کیا جائے اور پہلے سے جن افراد کو سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے انہیں رہا کیا جائے‘۔

واضح رہے کہ اُنتیس مئی کی شام شوپیان کے بون گام علاقہ کی رہنے والی بائیس سالہ نیلوفر اور اس کی سترہ سالہ نند آسیہ اپنے باغ سے لاپتہ ہوگئی تھیں اور تیس مئی کی صبح نزدیکی نالہ سے ان دونوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

زبردست عوامی ردعمل کے بعد حکومت نے اس کیس کی آزادانہ تفتیش کے لیے ایک رکنی کمیشن قائم کیا جس نے ایک ماہ بعد سات جولائی کو حکومت کے سامنے رپورٹ پیش کی۔ لیکن یہ رپورٹ بھی متنازعہ بن گئی۔

اس میں نیلوفر اور آسیہ کے رشتہ داروں کے کردار پر سوال اُٹھاتے ہوئے انہیں بھی شک کے دائرے میں لایا گیا تھا۔حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے جموں کشمیر ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے مقامی وکلاء کی ایک عرضی پر شنوائی کے بعد پولیس افسروں کی گرفتاری کا حکم صادر کردیا۔

عدالت نے ان افسروں کے ڈی این اے نمونے بھی جانچ کے لیے طلب کیے ہیں۔ ان پولیس افسروں کو تفتیشی کمیشن نے پہلے ملزموں کی فہرست میں شامل کردیا تھا۔

دریں اثناء بدھ کے روز ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ کے بعد وادی کے تمام اضلاع میں معمول کی زندگی بحال ہوگئی۔ اس دوران میرواعظ عمرفاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اگلے اعلان تک کسی بھی عوامی ریلی یا احتجاج کا انعقاد نہ کریں۔ اُدھر علیٰحدگی پسند تحریک کے سرکردہ قائدین جن میں سید علی گیلانی اور شبیر احمد شاہ شامل ہیں، بدستور پولیس حراست میں ہیں۔