ہندوستان نے شرط کیوں مانی؟

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
شرم الشیخ میں کیا ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو دہشت گردی سے نہ جوڑنے پر اتفاق کرکے اپنی پوزیشن کمزور کر لی ہے؟
کم سے کم اس مرحلے پر سوال زیادہ ہیں، جواب کم۔
مشترکہ اعلامیہ میں دو باتیں اہم نظر آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ باقاعدہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے اور بات چیت کا عمل دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے نہیں جوڑا جائے گا اور دوسری یہ کہ اس میں کشمیر کا براہ راست کوئی ذکر نہیں ہے۔
اس کے علاوہ شاید پہلی مرتبہ کسی مشترکہ اعلامیہ میں بلوچستان کا بھی ذکرشامل ہے۔ پاکستان یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ صوبے میں جاری شورش میں ہندوستان کا ہاتھ ہے۔
جہاں تک بلوچستان کا سوال ہے، وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اعلامیہ جاری کیے جانے کے بعد کہا کہ وہ اس الزام پر بات کرنے کو تیار ہیں’ کیونکہ ہم جو کچھ کرتے ہیں وہ کھلی کتاب کی طرح ہے، ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں۔اس لیے ہمیں بات کرنے میں کوئی خوف نہیں ہے۔‘
اور اگرچہ اعلامیہ میں لفظ’ کشمیر‘ نظر نہیں آتا، لیکن من موہن سنگھ کے حوالے سے یہ یقین دہانی شامل ہے کہ ہندوستان تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات کرنے کو تیار ہے۔ ظاہر ہے کہ کمشیر بھی ان ’آؤٹ سٹینڈنگ اشوز‘ کا اہم حصہ ہے۔
تو پھر بدلا کیا ہے؟ اور ہندوستان آخر کیوں ایسی شرط پر تیار ہوگیا؟
پاکستان کی جانب سے کئی وعدے کیے گیے ہیں، جن میں ممبئی پر حملوں کے ملزمان کے خلاف کارروائی کا وعدہ بھی شامل ہے۔ لیکن ماضی میں ہندوستان کا موقف یہ رہا ہے کہ وعدوں کا وقت گزر گیا ہے، اور اب وہ ٹھوس کارروائی دیکھنا چاہتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو کیا پاکستان نے اپنے تازہ ڈوسیر میں کوئی ایسی خاص معلومات فراہم کی ہے جس سے ہندوستان کو اس کی سنجیدگی کا یقین ہوا ہے؟ ڈوسیر کے حوالےسے ذرائع ابلاغ میں جو اطلاعات آرہی ہیں، ان میں تو ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی جس سے ہندوستان کے موقف میں اتنی انقلابی تبدیلی آجائے۔ اور اعلامیہ میں بھی یہ بات شامل ہے کہ ہندوستان ابھی اس دستاویز کاجائزہ لے رہا ہے۔
ہندوستان میں اب کئی مہینے سے یہ موقف زور پکڑ رہا تھا کہ پاکستان سے بات نہ کرنے سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے اور یہ کہ ہمسایہ ملک کو ’اینگیج‘ کرنا ہی بہتر پالیسی ہوگی۔ من موہن سنگھ نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ بات چیت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
لیکن اگر یہ حکمت عملی ہے تو ہندوستان صرف بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر تیار ہوسکتا تھا۔
پاکستان نے بدلے میں کیا وعدہ کیا ہے؟ کشمیر کا براہ راست ذکر کیوں نہیں ہے؟ بلوچستان کے ذکر سے کیا نتیجہ اخذ کیا جائے؟ کیا آخرکار امریکی دباؤ کام کر گیا؟
لیکن ان سب سے اہم سوال یہ کہ اگر ممبئی کی طرز کا ایک اور حملہ ہوتا ہے تو کیا ہوگا؟ ہندوستان کے سامنے کیا راستے باقی رہ جائیں گے۔
من موہن سنگھ نےیہ بھی کہا کہ دہشت گردی نہ رکی تو مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکتی۔ تو پھر اس شق کا کیا مطلب ہے؟ من موہن سنگھ سے ہندوستان واپسی پر یہ سوال ضرور پوچھا جائے گا۔
اگرصرف اعلامیہ کی بنیاد پر کوئی نتیجہ نکالا جائے تو شاید من موہن سنگھ نے اس سودے بازی میں دے زیادہ دیا ہے، لیا کم ہے۔ اسی لیے حکومت پاکستان اگر اسےایک بڑی سفارتی فتح کے طور پر پیش کرے تو کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔






















