ہم جنسی پر عدالتی فیصلہ برقرار

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ہم جنسوں کے درمیان جنسی تعلقات کو جرم قرار نہ دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو فی الحال بر قرار رکھا ہے ۔
ایک عرضی گزار نے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ وہ ہم جنسی کو قانونی طور پر جائز قرار دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دے ۔
چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن اور جسٹس پی سدا شیوم کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کی ایک بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلے میں کو ئی فیصلہ کرنے سے پہلے مرکزی حکومت کی رائے جانا چاہیں گے ۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے اس پیچیدہ سوال پر اپنی رائے دینے کے لیے دو مہینے کا وقت مانگا ہے۔
ہندوستان میں صرف بالغ مرد اور عورت کے درمیان رضا مندی اور روایتی طریقے سے کیا گیا جنسی فعل ہی قانونا جائز ہے ۔
ایک ہی جنس کے دو افراد کے درمیان جنسی فعل کو نہ صرف غیر فطری عمل بتایا گیا تھا بلکہ یہ جرم کے زمرے میں آتا تھا اور جس کے لیے عمر قید تک کی سزا تھی ۔
دو جولائی کو دلی ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں رضا مندی کے ساتھ ایک ہی جنس کے درمیان جسمانی تعلقات کو جرم کے زمرے سے خارج کر دیا ۔
ملک کے لاکھوں ہم جنس پرستوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے عدالت کے اس فیصلے کی ستائش کی تھی اور انسانی حقوق کی جیت قرار دیا تھا لیکن کچھ تنظیمیں اس فیصلے پر برہم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم جنسی ایک سماجی بیماری ہے اور اس کی اجازت دینا انسانی تہذیب کو تباہ کرنے کے مترادف ہے ۔
شوپیان کے ملزموں کے نارکو ٹسٹ پر روک
سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر پولیس کے ان افسروں کے نارکو ٹسٹ پرعارضی طور پر روک لگا دی ہے جنہیں ریاست کے شوپیان قصبے میں دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نارکو ٹسٹ ملزموں سے سچ اگلوانے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ ریاستی ہائی کورٹ نے ملزم پولیس افسران کی ڈی این اے تفصیلات متیعن کرنے کے لیے خون کا نمونہ حاصل کرنے اور ان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا ۔
ان پولیس افسروں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ ان کی گرفتاری پر روک لگائی جائے ۔
سپریم کورٹ نے ان افسروں کے نارکو ٹسٹ پر روک لگاتے ہو ئے اس معاملے کی آئندہ سماعت جعہ کو طے کی ہے ۔






















