بٹلہ ہاؤس تصادم، پولیس کو کلین چٹ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے حوالے سے دلی پولیس پر کافی نکتہ چینی ہوئی ہے
وقت اشاعت

ہندوستان میں انسانی حقوق کے قومی کمیشن نے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر معاملے میں دلی پولیس کو کلین چٹ دے دی ہے۔ کمیشن نے دلی ہائی کورٹ میں پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائی میں انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بینچ کی صدارت کرنے والے چیف جسٹس اے پی شاہ نے رپورٹ کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے قومی کیمشن کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ پر اس رپورٹ کو شائع کرے۔ اس کے علاوہ عدالت نے کیمشن کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی ایک کاپی اس غیر سرکاری تنظیم کو بھی فراہم کرے جس کی عذرداری پر عدالت نے اس معاملے میں تفتیش کرائے جانے کے احکامات جاری کیے تھے۔

سپریم کورٹ کے سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن نے اس پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کے کمیشن کی رپورٹ تعجب خیز ہے۔ '' کمیشن نے نا تو کسی متاثرہ شخص یا ان کے اہل خانہ سے بات کی نا دیگر افراد سے اور اس کی وضاحت کیا ہےکہ پولیس کو پہلے ہی سے جبپتہ تھا کہ وہ بم دھماکوں کے پیچھے والے سارے شدپ پسند ہیں تو پھر وہ بلیٹ پروف جیکیٹ پہن کر کیوں نہیں گئی۔ ''

پرشانت بھوشن کا کہنا تھا کہ پولیس کے کردار پر چار آزاد تنظیموں نے بڑے بڑے سوال اٹھائے تھے '' لیکن ان سب کو نظرانداز کر کے قومی کمیشن نے دلی پولیس کے موقف کو لیکر رپورٹ پیش کر دی۔''

ادھر دلی پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس میں کوئی بہت خوش ہونے والی بات نہیں ہے کیونکہ پبلک کو بھی بہت سے حقوق حاصل ہیں جن کا وہ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ '' ہم ابھی رپورٹ پر کچھ بھی نہیں کہیں گے اسے ہم تک پہنچنےدیجے۔ ''

دلی ہائی کورٹ نے اکیس مئی کو انسانی حقوق کے قومی کمیشن کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ متناز‏عہ بٹلہ ہاؤس تصادم کی دو مہینے میں تفتیش پوری کر کے عدالت میں پیش کرے۔ 19 ستمبر دو ہزار آٹھ کو جنوبی دلی کے بٹلہ ہاؤس علاقے میں پولیس نے ایک گھر میں انکاؤنٹر کر کے دو شدت پسندوں کو مارنے کا دعوی کیا تھا۔ اس تصادم میں پولیس کے ایک اہلکار موہن چند شرما بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اس تصادم کے سلسلے میں بعض غیر سرکاری تنظیم اور علاقے کو لوگوں نے پولیس کی کارروائی پر شک ظاہر کرتے ہوئے اس تصادم کی جوڈیشیل تفتیش کا مطالبہ کیا تھا۔

پولیس کے مطابق اس تصادم میں انڈین مجاہدین نامی شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو افراد عاطف امین اور محمد ساجد مارے گئے تھے جبکہ تصادم کے مقام سے ایک شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ دلی پولیس کی جانب سے یہ انکاؤنٹر دلی میں ہوئے سلسلسہ وار بم دھماکوں کے بعد کیا گیا تھا جس میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔