ایسا ہوجاتا ہے، آپ کیا کرسکتے ہیں؟

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
شرم الشیخ اعلامیہ پر ہندوستانی عہدیداران کے ہر بیان کے ساتھ ہی یہ معّمہ اور الجھتا جارہا ہے کہ من موہن سنگھ نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو دہشت گردی سے الگ رکھنے پر اتفاق کیوں کیا۔
سیاسی اور سفارتی حلقوں کی سخت تنقید کے بعد حکومت اب اس شق کی ایک نئی لیکن دلچست وضاحت پیش کر رہی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کہ الفاظ کے انتخاب اور جملوں کی ساخت میں شاید کمی رہ گئی۔
پارلیمان میں وزیر اعظم کے وضاحتی بیان کے بعد اب خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن نے کہا ہے کہ '' آپ یہ کہہ سکتےہیں کہ اس اعلامیہ کی ڈرافٹنگ (متن کے لیے الفاظ کا انتخاب) اچھا نہیں۔۔۔ لیکن اس کا مطلب بالکل واضح ہے۔''
پارلیمنٹ ہاؤس کی لائبریری میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی( چیلنج اور مواقع) پر اراکین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ' یہ بحث تو ہو سکتی ہے کہ اعلامیہ کی ڈرافٹنگ اچھی تھی یا خراب۔۔۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ خراب ڈرافٹنگ تھی، لیکن اس کا مطلب بالکل واضح ہے' اور وہ یہ کہ ہندوستان دہشت گردی کے مسئلہ پر اپنے موقف پر ڈٹا رہےگا۔
شیوشنکر مینن نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ '' یہ کوئی ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ نہیں ہے۔'' جس کا بظاہر مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو طویل مدتی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
اس سے قبل من موہن سنگھ نے بھی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے اپنی ملاقات کے بارے میں پارلیمان کو بتایا تھا کہ جب تک پاکستان دہشت گردی کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کرتا، اس کے ساتھ بامعنی مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
اخبارات میں شائع خبروں کے مطابق خارجہ سیکریٹری نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان 'جامع مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں کرے گا جب تک دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں 'پیش رفت' نہیں ہوتی۔
نئی تشریح
شیو شنکر مینن کے مطابق دہشت گردی کو مذاکرات سے الگ رکھنے کی شرط کا مطلب یہ ہے کہ بات چیت نہ ہونے کی صورت میں بھی پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں روک سکتا!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن مخالفین یہ مطلب اخذ کر رہے ہیں کہ کارروائی ہو یہ نہ ہو، بات چیت جاری رہے گی۔
اراکین پارلیمان نے جب خارجہ سیکریٹری سے پوچھا کہ اعلامیہ کی ڈرافٹنگ میں کمی کیسے رہ گئی تو ان کا جواب تھا کہ ' ایسا ہو جاتا ہے، آپ (ایسے میں) کیا کرسکتے ہیں'۔
انگریزی کےاخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق حزب اختلاف کی ناراضگی تو اپنی جگہ، خود کانگریس میں بھی اس اعلامیہ کے متن پر تشویش ہے۔ پارٹی کے ترجمان ابھی شیک منوسنگھوی سے جب ایک مباحثہ کے دوران حکومت کے فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے وضاحتی بیان کے بعد اب کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ وزیر اعظم کے اس بیان سے جواب کم ملے، نئے سوال زیادہ اٹھے۔
ٹی وی اور اخبارات میں اپنا نظریہ ظاہر کرنے والے زیادہ تر سفارتکاروں کی یہ رائے ہے کہ یہ اعلامیہ ایک بڑی سفارتی غلطی ہے جس کا خمیازہ ہندوستان کو مستقبل میں بھگتنا پڑسکتا ہے۔
سابق خارجہ سیکریٹری جی پارتھا سارتھی نے تو یہاں تک کہا کہ ' وزیر اعظم کو ان امور کی سمجھ ہی نہیں ہے۔'
ان 'تجزیوں' سے قطع نظر دو تین سوال اب بھی ایسے ہیں جن کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ شرم الشیخ میں قومی سلامتی کے صلاح کار ایم کے نارائنن، خارجہ سیکریٹری مینن اور خود وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا بھی موجود تھے۔ کیا واقعی یہ ممکن ہے کہ ہندوستانی حکومت کی یہ 'کریم' مل کر بھی ایک صفحہ کا اعلامیہ تیار نہیں کر سکی؟ کیا واقعی ایسا ہوسکتا ہے کہ امریکہ کا کوئی دباؤ نہیں تھا اور متن سے جس وعدے کا تاثر ملتا ہے وہ انہوں نے کیا ہی نہیں؟
یا صرف انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس فیصلے پر ملک میں کتنا شدید رد عمل ہوگا؟






















