جیل میں بیوی کے ساتھ رہنے کی سہولیت

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
انڈین پنجاب کی جیلوں میں جلدی ہی قیدیوں کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ بھی سرکاری مہمان بن سکیں گے لیکن جیلوں میں اصلاحات کی ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ''ریاستی حکومت کی یہ تجویز حد سے گزر گئی ہے۔'' حکومت پنجاب نے قیدیوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے یہ سکیم وضع کی ہے جس کے تحت لمبے عرصے سے جیل میں بند افراد '' ایک ہفتے کے لیے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہ سکیں گے۔'' لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ منصوبہ قیدیوں کو پیرول پر رہا کرنے کا نہیں ان کے بیوی بچوں کو جیل میں ہی لاکر ان کے ساتھ ٹھہرانے کا ہے۔ پنجاب کے وزیر جیل اور ثقافت ہیرا سنگھ گابھڑیا کے مطابق ریاست کی کپورتھلا اور فرید کوٹ جیلوں میں اس مقصد کے لیے چھیانوے اپارٹمنٹ تعمیر کئے جارہے ہیں۔ '' ہم نے بھی سیاسی تحریکیوں کے دوران لمبا عرصہ جیل میں گزارا ہے۔ اس لیے مجھے معلوم ہے کہ جیل میں رہنے والوں پر کیا گزرتی ہے۔ جیسے کوئی بندا پی ایچ ڈی کر لیتا ہے، ہم نے بھی جیل میں رہ کر قیدیوں کے تمام مسائل سمجھنے کی کوشش کی ہے۔''
لیکن جیلوں میں اصلاحات کی ماہر اور ملک کی پہلی خاتون آئی پی ایس افسر کرن بید کہتی ہیں کہ یہ سکیم '' ایک لائن کراس کر گئی ہے۔ حکومت نے کس بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے۔ کیا اس بارے میں کوئی تحقیق کی گئی ہے؟ سزا کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ کسی شخص کی آزادی اس سے چھینی جائے، لہذا اس طرح قیدیوں کو نارمل زندگی دینےکا کوئی جواز نہیں ہے۔'' ہیرا سنگھ کا کہنا ہے کہ جب برسوں تک مقدموں کا فیصلہ نہیں ہوپاتا، یا کسی کو لمبی سزا ہوجاتی ہے تو اکیلے رہنے سے قیدیوں کا دماغی توازن بگڑنے، اور جنسی زندگی سے محرومی کی وجہ سے ان کے ہم جنس پرستی اور منشیات کی طرف راغب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہر نفسیات سندیپ ووہرا اس بات سے تو اتفاق کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ قیدیوں کا کہ معیار زندگی بہتر بنانے کی کوشش میں جرم کی نوعیت کو بھی ملحوظ نظر رکھا جانا چاہیے اور پہلی کوشش انہیں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ہونی چاہیے۔ ''جب ایک ہی جنس کے لوگ لمبے عرصے تک ایک ہی جگہ قید ہوتے ہیں تو ایسے حالات میں ہم جنس پرستی کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ (ہفتے دس دن کے لیے) ان کی بیویوں کو ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دیکر اس مسئلے پر کس حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔'' ''میرے خیال میں پیشہ ور مجرموں کو یہ سہولت نہیں دی جانی چاہیے۔ لیکن بہت سے لوگ حالات کا شکار ہوکر قانون کے گھیرے میں آجاتے ہیں۔'' لیکن ہیرا لال باگھڑیا کہتے ہیں کہ جب مقدمے لمبے کھنچتے ہیں تو مجرم یا ملزم کے ساتھ ساتھ اس کی بیوی کو بے وجہ سزا ملتی ہے۔
حکومت پنجاب کو اس سکیم سے بہت امیدیں وابستہ ہیں لیکن کرن بیدی کہتی ہیں کہ '' آپ جیل کو گھر نہیں بناسکتے۔۔۔جیل میں اصلاحات کے اور بہت طریقے ہیں، تعلیم دیجیے، ہنر سکھائیے، ان کا رویہ بدلنے کی کوشش کی کیجیے۔۔۔جیل ایک اصلاحی شہر تو بن سکتا ہے لیکن گھر نہیں۔۔۔لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ جرم کا شکار ہونے والوں کے جذبات کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔' یہ سکیم خاتون قیدیوں کو بھی دستیاب ہوگی اور اہل خانہ کے قیام کا خرچ حکومت برداشت کرے گی۔ وزیر کے مطابق سکیم کا اطلاق آئندہ برس مارچ سے شروع کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔


















