نجی ایئرلانز مالی مشکلات کی شکار

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنتقریبا سبھی نجی ایئرلائنز اس وقت خسارے میں چل رہی ہیں
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

ہندوستان کی کئی بڑی نجی ہوائی کمپنیوں جیٹ ایئروی، سپائس جیٹ اور کنگ فشر نے انتباہ کیا ہے کہ اگر حکومت انہیں مالی خسارے سے نکلنے میں مدد فراہم نہیں کرتی ہے تو اٹھارہ اگست کو ان کے طیارے پرواز نہیں کریں گے۔

حکومت کی ملکیت والی ایئر انڈیا اس ہڑتال میں شامل نہیں ہے۔

فیڈریشن آف انڈین ایوی ایشن نے ممبئی میں جمعہ کے روز پریس کانفرنس کے دران اس بات کا اعلان کیا۔ مذکورہ پریس کانفرنس میں کنگ فشر کے مالک وجے مالیا اور جیٹ ایئرویز کے نریش گوئل موجود تھے۔

ایف آئی اے کے سکریٹری جنرل انیل بائجل نے کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے اٹھارہ اگست کی ٹکٹیں بک کی ہیں ہیں انہیں ان کی رقم واپس کر دی جائے گی۔ '' اگر حکومت نے نجی کمپنیوں کی مدد نہیں کی تو پھر فیڈرشن کی رکن ایئرلائنز اب مزید اپنی خدمات انجاط نہیں دے پائیں گی۔''

اٹھارہ اگست کے روز کنگ فشر، انڈی گو، سپائس جیٹ اور جیٹ ایئرویز کی تمام گھریلو پروازیں نہیں اڑیں گی۔

کنگ فشر ایئر لائن کے مالک وجے مالیا نے حکومت کی موجودہ پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان پر جانبداری کا الزام عائد کیا۔ مالیا نے کہا کہ غیر ملکی کمپنیوں کو کئی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں لیکن وہ کمپنیاں جو ملک میں خدمات دے رہی ہیں انہیں اس سےمحروم رکھا جاتا ہے۔

مالیا نے کہا ک'' ہ ہم بہت دکھی ہیں اور ہمیں زندہ رہنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔'' ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے انہیں خسارے سے نکالنے کے مراعات فراہم نہیں کیں تو ان کی کمپنی قومی اڑانوں پر غیر معینہ مدت تک کے لیے پابندی عائد کر سکتی ہے۔

جیٹ ایئرویز کے مالک نریش گوئیل کا کہنا تھا '' ہم ہر روز خون آلود ہورہے ہیں، سبھی اس مشکل سے زر رہے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں ایئرلان کمپنیوں کی مدد کی جا رہی ہے۔''

ایف آئی اے کے مطابق گزشتہ مالی سال میں انہیں دس ہزار کروڑ کا خسارہ ہوا تھا جبکہ اس برس یہ خسارہ ستاون ہزار کروڑ کا ہے۔