ایران:مظاہرین کے خلاف مقدمات شروع

ایران میں صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں مبینہ طور پر شریک ایک سو افراد کے خلاف مقدمے کی سماعت سنیچر سے شروع ہوگئی ہے۔
جن افراد پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے ان میں ایران کے ایک سابق نائب صدر سمیت حزبِ اختلاف کی اصلاحی مہم کے ارکان بھی شامل ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ملزمان میں سابق نائب صدر محمد الابتہی کے علاوہ، ایران کے سابق نائب وزیرِ خارجہ محسن امین زادے، سابق حکومتی ترجمان عبداللہ رمضان زادے، ماہرِ قانون محسن میردامادی اور سابق وزیرِ صنعت بہزاد نبوی بھی شامل ہیں۔
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ان افراد پر بلوے، توڑ پھوڑ، قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے اور حکومتی نظام کے خلاف سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر انقلابِ ایران کے مخالف گروہوں سے تعلقات رکھنے کا الزام بھی ہے۔
خبر رساں ادارے فارس کے مطابق سابق نائب صدر محمد الابتہی نے عدالت میں کہا ہے کہ ’میں اپنے تمام ساتھیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایران میں دھاندلی کا ایشو ایک جھوٹ تھا اور یہ معاملہ فساد پھیلانے کے لیے اٹھایا گیا تھا‘۔
خیال رہے کہ بی بی سی سمیت دیگر غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو عدالت سے اس مقدمے کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
بارہ جون کو ایران میں صدارتی انتخابات کے بعد جب نتائج سامنے آئے تو اپوزیشن جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگایا تھا اور حزب اختلاف کے حامیوں کی طرف سے زبردست احتجاجی مظاہروں کے دوران حکام نے سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا تھا۔ منگل کے روز ان میں سے ایک سو چالیس افراد کو جیلوں سے رہا بھی کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق تقریبا دو سو افراد جن پر سخت قسم کے الزمات ہیں وہ ابھی بھی جیل میں ہیں۔ لیکن اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گغے افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ سرکاری خبروں کے مطابق بعض لوگ جنہیں جرائم کرتے ہوئے کیمرے میں قید کیا گیا تھا وہ اب بھی لاپتہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انتخابات کے بعد پر تشدد مظاہروں میں تقریباً تیس افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ انتخابات کے بعد تہران میں جو مظاہرے ہوئے ہیں ویسے احتجاجی مظاہرے انیس سو اناسی میں انقلابِ ایران کے بعد کبھی نہیں دیکھے گئے۔






















