جھارکھنڈ ميں خشک سالی کا اعلان

عام طور پر مانسوس دس جو تک یہاں پہنچ جاتا ہے لیکن اس بار مانسون کی بارش پہنچے پہنچتے 28 جون ہو گئی اور اس پر بھی ضرورت کے مطابق بارش نہيں ہوئی
،تصویر کا کیپشنعام طور پر مانسوس دس جو تک یہاں پہنچ جاتا ہے لیکن اس بار مانسون کی بارش پہنچے پہنچتے 28 جون ہو گئی اور اس پر بھی ضرورت کے مطابق بارش نہيں ہوئی
    • مصنف, سلمان راوی
    • عہدہ, بی بی سی ، جھارکھنڈ
  • وقت اشاعت

انڈیا کی مشرقی ریاست جھاڑکھنڈ کے حکام نے بارش نہ ہونے کی وجے سے باقا‏عدہ طور پر خشک سالی کا اعلان کر دیا ہے۔ ریاست کے نئے گورنر کے شنکر نارائین کی اڈوائزی کاؤنسل نے اس سلسلے میں حکم جاری کیا ہے۔

اس برس نہ صرف ریاست ميں مانسون میں دیر ہوئی بلکہ جتنی بارش ہونی چاہیے تھی اس کی ایک چوتھائی بھی نہيں ہوئی۔

اس سے قبل ریاست کے صرف 11 اضلاع میں ہی خشک سالی کا اعلان کیا گیا تھا ۔ کابینہ سکریٹری پی کے ججوریہ نے بتایا کہ وقت پر مانسون کے نہ آنے سے نہ تو فصل بوئی جا سکی ہے اور اگر کہيں فصل بوئی بھی گئی ہے تو وہ برباد ہو گئی ہے۔

خشک سالی کے باعث سب سے زیادہ جھارکھنڈ کے سنتھال، پرگنہ اور پلامو کے علاقے میں آنے والے اضلاع ہیں کیونکہ یہاں کے کسان صرف کاشتکاری پر انحصار کرتے ہیں۔

عام طور پر مانسون دس جون تک یہاں پہنچ جاتا ہے لیکن اس بار مانسون کی بارش پہنچے پہنچتے 28 جون ہو گیا تھا اور اس پر بھی ضرورت کے مطابق بارش نہيں ہوئی۔

کئی علاقوں ميں کسانوں کے ہجوم قومی شاہرہ پر پھاوڑے لے کر بیٹھے رہتے ہیں تاکہ کسی طرح انہیں کوئی روزگار مل جائے اور وہ اپنا اور اپنے خاندان والوں کا پیٹ بھر سکیں۔

جھارکھنڈ سرکار کے کابینہ سکریٹری پی کے جاجوریہ نے بتایا کہ حالات سے نمٹنے کے لیے حکومت نے سرکاری واجب قیمت والی ساڑھہ بارہ ہزار دکانیں کھولنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر ضلع ہیڈکواٹر میں ایک ایک ہزار میٹرک ثن کی گنجائش کے سترے اناج گودام کھولے جائيں گے۔